ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 181
181 ادب المسيح ہونے کا ذکر ہے اور فرماتے ہیں کہ ایسے عاشق صرف آپ ہی نہیں بلکہ ہزاروں ہوتے ہیں اور ہر زمانے میں ہوتے ہیں اس مقام پر توقف کریں اور جائزہ لیں کہ کیا یہاں پر حضرت حسین کی شہادت کا ذکر ہور ہا اور کیا یہ مقتل حضرت حسین کا میدان کربلا ہے یا عاشقانِ الہی کی شہادت گاہ ہے۔دونوں روحانی حادثات کی نوعیت بالکل مختلف ہے اس لیئے تقابل نہیں کیا جاسکتا آخری شعر میں کر بلا اور حضرت حسینؓ کی شہادت کا ذکر تو مثال کے طور پر آ گیا ہے۔مقابلے کی غرض سے نہیں آیا کیونکہ مقابلہ ہمیشہ یکساں حادثات اور ہم نوع کیفیات میں ہوتا ہے۔حضرت حسین کی خدا کی راہ میں عظیم الشان شہادت ہوئی مگر وہ تلوار سے ہوئی حضرت اقدس کی شہادت عشق الہی کے سمندر میں ڈوب کر ہوئی ہے اور ہزار بار ہوئی ہے۔اس لیے اس شعر سے یہ مراد لینا کہ حضرت اقدس اپنے مقابل پر حضرت حسین کو کمتر منصب دے رہے ہیں یکسر غلط خیال ہے کیونکہ تقابل کے لوازمات نا پید ہیں یہ حقیقت بھی یادرکھنی چاہئیے کہ جب کوئی انسان اپنی شان و عظمت کی مثال دیتا ہے تو ایسے شخص سے دیتا ہے جو خود صاحب عظمت ہو اور ایسی مثال ہمیشہ مقام مدح پر ہوتی ہے نہ کہ مقام زم پر۔اس لیے آپ حضرت کا امام حسین کی مثال دینا حضرت حسین کی عزت افزائی اور علو مرتبت کے لئے ہے۔یہ بات کہ آپ حضرت نے محبت الہی کی راہ میں جو صبر اور استقامت دکھائی ہے اس کو کر بلا کیوں کہا تو اس کا جواب یہ ہے کہ کربلا کے لفظ سے حضرت کی مراد میدان کربلا نہیں بلکہ وہ کرب و بلا ہے جو آپ نے محبت الہی میں برداشت کئے۔لغت میں اس کے معانی ”رنج اور آفت کا مقام کئے گئے ہیں۔(فرہنگ آصفیہ) فارسی ادب میں کربلا کا لفظ اسی علامتی معنوں میں استعمال ہوا ہے حافظ شیرازی محبوب کے ہجر کے بیان میں کہتا ہے کہ اس مصیبت کی مثال کر بلا کے مصائب ہی سے دی جاسکتی ہے کہتا ہے۔آنچہ جانِ عاشقان از دست هجرت می کشد کس نہ دیدہ ایں جہاں جز کشتگانِ کربلا ترجمہ: عاشقوں کی جان جو تیرے فراق میں برداشت کر رہی ہے اسکو کر بلا کے شہیدوں کے سوا کسی نے نہیں دیکھا اس بیان میں تو کر بلا کیساتھ حضرت حسین کا ذکر بھی آگیا کیونکہ کشتگان کربلا میں آپ صف اول میں تھے