ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 154
ب المسيح 154 روحانی علائم و رموز نور ایک عربی لفظ ہے جس کے مشہور عام معانی روشنی کے ہیں۔حضرت اقدس نے اس لفظ کو بہت سے معنوں میں اختیار کیا ہے اور ان تمام معانی اور دلالتوں کی خوبی یہ ہے کہ یہ سب قرآن کریم سے ماخوذ ہیں۔اول قدم پر آپ حضور نے قرآن کریم کے فرمان اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ (النور: 36) کے اتباع میں خدا تعالیٰ کو اس نام سے پکارا ہے۔فارسی میں اللہ تعالیٰ کو نہایت درجہ محبت سے خطاب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں: اے دلبر و دلستان و دلدار و اے جان جہان و نور انوار ترجمہ: اے دلبر دلستان اور دل دار۔اے جہان کی جان اور نوروں کے نور بینم در از یاد تو نورها به حلقة عاشقان خوں بار ترجمہ: تیرے ذکر کی برکت سے میں انوار دیکھتا ہوں آہ و زاری کرنے والے عاشقوں کی جماعت میں۔اردو میں فرماتے ہیں: کس قدر ظاہر ہے نو ر اس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا اور فرماتے ہیں: ٹو ر فرقاں ہے جو سب ٹوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا عربی میں فرماتے ہیں: وَمَا غَيْرُ بَابِ الرَّبِّ إِلَّا مَذَلَّةٌ وَ مَا غَيْرُ نُورِ الرَّبِّ إِلَّا تَكَدُّرُ ترجمہ : رب کے دروازہ کے سوا باقی سب ذلت ہے اور رب کے نور کے سوا باقی سب ظلمت ہے۔مشاہدہ کریں الله نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ “ اور ” نور انوار اور مبداء الانوار میں با ہم کس قدر اتحاد لفظی اور معنوی ہے۔ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہستی کو ” نور“ کا نام دیا ہے۔حضرت اقدس اس آیت کے معافی کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔خدا اصل نور ہے۔ہر ایک نور زمین اور آسمان کا اُسی سے نکلا ہے“ (دیکھو تفسیر حضرت اقدس زیر آیت)