ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 145 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 145

145 ادب المسيح اس مضمون کے آخر پر ہم آپ حضرت کے ایسے چار اشعار پیش کرتے ہیں جو یک جابیان ہوئے ہیں اور جن میں ادب عربی کے دونوں سنگ میل یعنی ادب جاہلیہ اور ادب قرآن یکے بعد دیگرے بیان ہوا ہے۔ادب جاہلیہ کے حوالہ سے حضرت لبید بن ربیعہ کا مشہور عالم شعر ہے۔(1) الا كل شيء ما خلا الله باطل و كـل نـعـيـم لا محالة زائل ترجمہ : سُن لو کہ خدا کے سوا سب باطل ہے اور تمام نعمتیں ختم ہونے والی ہیں۔اور اسی صاحب ادب صحابی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا مصرعہ ہے جو آپ حضرت کو الہام ہوا ہے۔(٢) إِنَّ المَنَايَا لَا تَطيش سِهَامُها ترجمہ : موتوں کے تیر کبھی خطا نہیں جاتے۔ہمارے پیارے امام آخر زمان جاہلیہ کے اسلوب میں فرماتے ہیں۔الا لَيْسَ غَيْرَ اللَّهِ شَيْءٌ مُدَوَّمٌ وَّكُلُّ جَلِيْسٍ مَّا خَلَا اللَّهَ يَهْجُرُ شعو ! اللہ کے سوا کوئی شئے ہمیشہ رہنے والی نہیں اور ہر ہم نشیں سوائے اللہ کے جدا ہونے والا ہے اثَرْنَ غُبَارًا عِنْدَ حُكْم يُصْدِرُ وَإِنَّ الْمَنَايَا سَابِحَاتٌ قَوِيَّةٌ اور مالتینا موتیں تو تیز روگھوڑے ہیں جو غبار اڑاتے ہیں حکم صادر ہونے کے وقت قرآن کریم کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(1) أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللهِ (الحديد : 17) ترجمہ: اب ہم مومنوں سے کہتے ہیں کہ کیا اب تک ان کے دل اللہ کے ذکر کیلیے جھکتے نہیں۔(۲) وَأَخِرُ دَعُونَهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (يونس: 11) ترجمہ: اور ان کی آخری پکار یہ ہوگی کہ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب العالمین ہے۔(ا) تَذَكَّرْ دِمَاءَ الْعَارِفِيْنَ بِسُبُلِهِ اَلَمْ يَأْنِ أَنْ تَخْشَى وَ أَنْتَ مُحَرَّرُ خدا کی راہ میں عارفین کے بہنے والے خون کو یاد کر۔کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تو ڈرے؟ یا کیا تو آزاد ہے؟ (۲) وَاخِرُ دَعْوَانَا أَن الْحَمْدُ لِلَّذِيْ هَدَانَا مَنَاهِجَ دِيْنِ حِزْبٍ طُهَرُوْا اور ہماری آخری بات یہی ہے کہ تمام حمد اسی ذات کے لیے ہے جس نے ہمیں پاک گروہ کے دین کی راہوں کی راہنمائی کی۔اتباع قرآن اور اسالیب ادب عربی کے مقابل پر حضرت اقدس کے کلام کو مقدور بھر پیش کر دیا گیا ہے۔