ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 109 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 109

حضرت اقدس فرماتے ہیں۔109 ادب المسيح گر مہر خویش بر کنم از روئے دلبرم آں مہر بر که افگنم آں دل کجا برم ترجمہ : اگر میں اپنی محبت کو اپنے دلبر کی جانب سے ہٹا لوں تو اس محبت کو کس سے لگاؤں اور اس دل کو کہاں لے جاؤں۔دراصل حضرت کا یہ قصیدہ سعدی کے قصیدے کی طرح سے حافظ کے قصیدے کا جواب ہے۔مگر یہ حقیقت تو واضح ہے کہ حافظ کے شعر میں وہ شعری نزاکت اور سلاست نہیں جو کہ آپ کے شعر میں ہے درحقیقت یہ ایک اصلاح ہے اور ایسی اصلاح جس سے شعر کی معنوی اور جمالیاتی قدر و قیمت بڑھ جائے اہل ادب کی نظر میں مقبول ہوتی ہے۔حافظ کے اس قصیدے کے مقابل پر آپ حضرت نے بہت سے مقامات میں قافیہ کی مناسبت سے بہت ہی خوبصورت مضامین باندھے ہیں اور مدح و توصیف کا صحیح منصب بیان کیا ہے جیسے کہ حافظ اپنے ممدوح کو مخاطب کر کے کہتا ہے۔نامم ز کارخانه عشاق محو باد گر جز محبت تو بود شغل دیگرم ترجمہ: خدا کرے کہ عاشقوں کے کارخانے سے میرا نام مٹ جائے اگر تیری محبت کے سوا میرا کوئی دوسرا شغل ہو اور آپ حضرت باری تعالیٰ کی محبت میں فرماتے ہیں۔دریاب چونکہ آب ز بهر تو ریختیم دریاب چونکه جز تو نما نداست دیگرم ترجمہ: میری داد کو پہنچ کیونکہ میں نے تیرے لئے آنسو بہائے ہیں۔میری فریا دسن کیونکہ تیرے سوا میرا کوئی نہیں رہا۔حافظ کہتے ہیں۔را هم مزن بوصف زلال خضر که من از جام شاہ جرعه کش حوض کوثرم ترجمہ: خضر کے صاف پانی کی تعریف کر کے مجھے گمراہ نہ کر کیونکہ میں شاہ کے جام سے حوض کوثر کے جام پی رہا ہوں۔