ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 97 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 97

ہی ہوتے ہیں۔97 ادب المسيح قُلْ اِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إلَيْكُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُوْلِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِ؟ وَاللهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَسِقِينَ (التوبة (24) حضرت اقدس اس آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یعنی ان کو کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمھاری عورتیں اور تمہاری برادری اور تمہارے وہ مال جو تم نے محنت سے کمائے ہیں اور تمہاری سوداگری جس کے بند ہونے کا تمہیں خوف ہے اور تمہاری حویلیاں جو تمہارے دلپسند ہیں خدا سے اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں اپنی جانوں کو لڑانے سے زیادہ پیارے ہیں۔تو تم اُس وقت تک منتظر رہو کہ جب تک خدا اپنا حکم ظاہر کرے اور خدا بد کاروں کو کبھی اپنی راہ نہیں دکھائے گا۔( تفسیر حضرت اقدس زمر آیت) اسی فرمان خداوندی کی تصدیق میں ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تین باتیں ہیں جس میں وہ ہوں ، وہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس محسوس کرے گا۔اوّل یہ کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول باقی تمام چیزوں سے اسے زیادہ محبوب ہو۔دوسرے یہ کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی سے محبت کرے اور تیسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے کفر سے نکل آنے کے بعد پھر کفر میں لوٹ جانے کو اتنا نا پسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو نا پسند کرتا ہو۔اسی بنا پر ہم کہتے ہیں کہ آپ کا یہ بیان وارداتی اظہارِ منصب ہے نہ کہ شاعرانہ موزوں کلامی۔خاکسار یقین سے کہہ سکتا ہے کہ واصلین باری تعالیٰ کے مناقب بیان کرنے میں حضرت اقدس کے یہ چندا شعار اسلامی ادب کے شاہکار ہیں اور ان کے مقابل پر کسی کے کلام کو تلاش کرنا ایک بے سود عمل ہے۔میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بہت سے عاشقانِ باری تعالیٰ نے فارسی زبان میں روحانی مشاہدات اور قلبی واردات کا ذکر کیا ہے جیسے سنائی۔عطار۔اور رومی اور اس نوع کے دیگر شعراء ہیں مگر تصوف اور سلوک کے مضامین کو بیان کرنے میں یہ خصوصیت که صاحب شعر روحانی مناقب کو ذاتی واردات قلبی اور مشاہدات روحانی کے طور پر بیان کر رہا ہو اسلامی ادب میں ایک ایسا منصب ہے جو کسی اور صاحب شعر کو نصیب نہیں ہوا۔یہی وجہ ہے کہ اُن کے کلام