ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 88 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 88

ب المسيح 88 اور ایسے ایسے بہت سے شاعر ہیں جن کو الہیات کے موضوعات کا شاعر کہا جاتا ہے۔مولانا روم کی مثنوی کے بارے میں تو یہ کہا گیا ہے ” ہست قرآن در زبان پهلوی یعنی فارسی زبان کا قرآن ہے۔اسلوب شعری کے اعتبار سے بھی یہی صاحب کمال شاعر ہیں جن کی طرز بیان پر فارسی شعر کی عمارت قائم ہوئی ہے۔کسی نے بہت درست کہا ہے۔در شعر سه کس پیمبرانند ہر چند کہ لانبـــــی بــعـــدی باوجود اس فرمان کے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا شعر میں تین اشخاص پیغمبر ہیں۔ابیات و قصیده و غزل را فردوسی و انوری و سعدی مثنوی اور قصیدہ اور غزل کے اعتبار سے یہ فردوسی اور انور کی اور سعدی ہیں فارسی ادب میں ان تین شاعروں کا اپنی صنف شعر میں بے مثال ہونا تو بالکل برحق ہے۔مگر ہم بات اللہیات کے موضوعات کی کر رہے ہیں اور اس تسلسل بیان میں عرض کرتے ہیں کہ حضرت اقدس کی بعثت سے قبل جن عنوانات شعری کو الہیات کے مضامین کہا جاتا تھا وہ عمومی طور پر اسلامی اخلاق اور تہذیب کے عنوانات ہیں۔کہیں کہیں جستہ جستہ محبت الہی کا ذکر ہوتا ہے مگر وہ بھی اس طور سے کہ کھینچ تان کر ان کے اشعار کے مجازی معنی کئے جائیں تو اُس کا ثبوت ملتا ہے۔عرفان الہی کا مضمون تو بالکل کا لعدم ہے۔اسلامی سرمایہ ادب میں جس کلام کو صوفیانہ کلام کہتے ہیں وہ اسلامی اخلاق پر وعظ ونصیحت ہے اور باقی مجاز کے پردوں میں چھپا ہوا ہے۔یعنی یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ شعر محبوب حقیقی کی محبت کی واردات بیان کر رہا ہے یا محبوب مجازی کی۔آذری نے بہت درست کہا ہے: اگر چه شاعران نغز گفتار ز یک جام اند در بزم سخن مست اگرچه قادر الکلام شاعر شعر کی محفل میں ایک ہی جام سے سرمست ہیں ولے با بادہ بعض حریفاں فریب چشم ساقی نیز پیوست مگر بعض دوستوں کی شراب میں کچھ حصہ ساقی کی چشم مست کا بھی ہوتا ہے مبیں یکساں کہ در اشعار ایں قوم ورائے شاعری ” چیزے دگر ہست“ اس لیے یہ خیال نہ کرو کہ ان کے اشعار میں شاعری کے علاوہ کوئی اور چیز بھی ہے چیزے دگر ہست“ کی ترکیب لفظی سے مجھے خیال آیا کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ اکثر وو