ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 82
ب المسيح 82 ابلاغ رسالت میں انکار اور تکذیب اس مضمون میں حضرت کے صبر اور غم کا مشاہدہ کریں۔فرماتے ہیں: زعم میں اُن کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں! نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گالیاں سُن کے دُعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اُٹھایا ہم نے تیری اُلفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اور فرماتے ہیں: اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے کیسے کافر ہیں مانتے ہی نہیں ہم نے سو سو طرح سے سمجھایا اس غرض سے کہ زندہ یہ ہوویں ہم نے مرنا بھی دل میں ٹھہرایا بھر گیا باغ اب تو پھولوں سے آؤ بلبل چلیں کہ وقت آیا اور پھر اس بد زبانی سے تکذیب کرنے کا نتیجہ بھی سن لیں۔فرماتے ہیں: ترے فضلوں سے جاں بستاں سرا ہے ترے ٹوروں سے دل شمس الضحی ہے اگر اندھوں کو انکار و اباء ہے وہ کیا جانیں کہ اس سینہ میں کیا ہے کہیں جو کچھ کہیں سر پہ خدا ہے پھر آخر ایک دن روز جزا ہے بدی کا پھل بدی اور نامرادی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي تکذیب و انکار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کا بیان بھی سُن لیں۔فرماتے ہیں: پر وہ جو مجھ کو کاذب و مگار کہتے ہیں اور مفتری و کافر و بدکار کہتے ہیں