ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام

by Other Authors

Page 81 of 470

ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 81

جہاد بالسیف 81 ادب المسيح ایسا جہادجس سے مراد اسلام کو بزور شمشیر پھیلانا ہے قرآن کی تعلیم نہیں ہے۔جبر واکراہ سے اسلام کو پھیلا نا تو لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257 ) کے فرمان نے ہی ممنوع کر دیا ہے۔اور حضرت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کی جنگوں کو دفاعی کارروائی ثابت کر کے وضاحت کی ہے کہ کیونکہ آپ کے وقت میں تلوار سے اسلام کی اشاعت کو روکا گیا تھا اس لیے جہاد کیا گیا مگر فی زمانہ جبکہ اشاعت اور قبولیت اسلام میں کوئی جبر نہیں کیا جاتا اس لیے دین کے لیے اب جنگ کرنا اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔فرماتے ہیں: اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال دیں کے لیے حرام ہے اب جنگ اور قتال اب آ گیا مسیح جو دیں کا امام ہے دیں کی تمام جنگوں کا اب اختتام ہے اب آسماں سے نورِ خُدا کا نزول ہے اب جنگ اور جہاد کا فتویٰ فضول ہے دشمن ہے وہ خُدا کا جو کرتا ہے اب جہاد منکر نبی کا ہے جو یہ رکھتا ہے اعتقاد کیوں چھوڑتے ہو لوگو نبی کی حدیث کو جو چھوڑتا ہے چھوڑ دو تم اُس خبیث کو کیوں بُھولتے ہو تم يَضَعُ الحَرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما پچکا ہے سید کونین مصطفے عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا جب آئیگا تو صلح کو وہ ساتھ لائیگا جنگوں کے سلسلہ کو وہ یکسر مٹائے گا پیویں گے ایک گھاٹ پر شیر اور گوسپند کھیلیں گے بچے سانپوں سے بیخوف و بے گزند یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا بُھولیں گے لوگ مشغلہ تیر و تفنگ کا یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائیگا اک معجزہ کے طور سے یہ پیش گوئی ہے کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے القصہ یہ صحیح کے آنے کا ہے نشاں کر دیگا ختم آکے وہ دیں کی لڑائیاں ☆