ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page x
ادب المسيح پیش لفظ حضرت اقدس کا شعری کلام تین زبانوں (اردو۔فارسی۔عربی میں تخلیق ہوا ہے۔ظاہر ہے کہ ان زبانوں کے سرمایۂ ادب کی لفظی اور معنوی خوبی کی تلاش اور نشاندہی کے لیے ان تینوں زبانوں کے ادب کا وسیع اور تفصیلی علم اور ادبی علوم یعنی علم معانی اور بیان اور فن صنائع اور بدائع سے متعارف ہونا بہت ضروری ہے۔یہ وہ ریاض اور علوم ہیں جن کی مدد سے محاسن کلام کی تعیین اور تحقیق ہوتی ہے اور شعر کے لفظی اور معنوی حسن و جمال کی شناخت میں مدد ملتی ہے۔تاہم، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شعری حسن و جمال کو دل و دماغ میں قبول کرنا اور ایک جمالیاتی اور معنوی لطف اٹھانا دراصل ایک ذوقی قابلیت ہے جو کہ بہت حد تک ایک خداداد استعداد ہے۔اس شعر نہی کی استعداد کو کسی جمالیاتی فلسفہ اور لسانی اصطلاحات کے حوالے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ ایک فطرتی صلاحیت ہے جس کو ذوق سلیم بھی کہا جاتا ہے۔اگر یہ موجود ہو تو صاحب ذوق لفظ و معانی کے حسن و جمال کی ہر تجلی اور ہر انداز کو پہچان لیتا ہے۔سمجھ لیتا ہے اور لطف اُٹھاتا ہے۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ جن نابغۂ شعر و ادب نے الفاظ و معانی میں گل کاریاں کی ہیں وہ سب ایسے تھے کہ ان کو اپنی گل افشانیوں کے لئے کسی فنی اور فلسفیانہ علیم ادب و انشاء کی راہ نمائی نصیب نہیں تھی۔اس کے باوجودان کے کلام میں تمام محاسنِ کلام کی اقدار جلوہ نما ہوتی ہیں۔حالانکہ شعوری طور پر ان کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ادبی صنعت گری پیش کر رہے ہیں۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی تخلیقات ادب کے مطالعہ اور تجزیہ پر بنیاد رکھ کر اور ان کو دلیل راہ بنا کر ہی علوم ادب اور فن شاعری کے دستور اور قواعد مرتب کئے گئے ہیں۔اس بیان میں غالب کو بھی سن لیں۔ما نه بودیم بدیں مرتبہ راضی غالب شعر خود خواہش آں کرد که گردد فن ما ترجمہ: میں تو اپنے معیار ادب پر خوش نہیں تھا۔مگر شعر نے خود خواہش کی ہے کہ وہ میرے فن میں شمار ہو۔مطلب یہ ہے کہ شعر سے فنِ شعر پیدا ہوتا ہے۔فرن شعر سے اشعار کی تخلیق نہیں ہوتی۔ان حقائق کے باوجود ادبی علوم سے متعارف ہونا اور مطالعہ ادب کی وسعت کی اہمیت مسلمہ ہے۔ادبی