آداب حیات

by Other Authors

Page 57 of 287

آداب حیات — Page 57

حضرت عائش ہی نہ فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں میں سے کسی پر شک نہیں کیا۔جیسے حضرت خدیجہ پر کیا۔میں نے تو اُسے نہیں دیکھا۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بہت ذکر فرمایا کرتے تھے اور اکثر بکری ذبح کر کے اس کے اعضاء اس کی سہیلیوں کو بھیجا کرتے۔میں اکثر کہا کرتی۔گویا دنیا میں فتہ مجرم کے سوا کوئی اور عورت ہی نہیں۔آپؐ فرماتے۔وہ ایسی نیک تھی۔ایسی تھی۔اور اس سے میری اولاد تھی۔(بخاری کتاب المناقب باب ترویج النبي خدیجتة و فضلها) -۱۰ والدین کی خدمت گزاری اور ان کی احسانمندی کا حق ان کی زندگی میں ہی ختم نہیں ہو جاتا بلکہ ان کی وفات کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔اس لئے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی نیکیوں کو جاری و ساری رکھے اور ہمیشہ نیکی کی راہوں یہ سر قدم مارے تا کہ اولاد کی نیکی کا ثواب والدین کو بھی پہنچتا رہے اور جنت میں ان کے درجات بلند ہوں ان کے لئے بخشش کی دعا مانگنے رہنا چاہیئے۔حدیث میں آتا ہے بنو سلمہ میں سے ایک آدمی نے حضور سے سوال کیا کہ میرے ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ میں کوئی سلوک کر سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔چار سلوک۔ان کے جنازے کی نمازہ اُن کے لئے دعا و استغفار اُن کے وعدوں کو پورا کرنا۔اُن کے دوستوں کی عزت کرنا۔اور وہ صلہ رحمی جو صرف اُن کی وجہ سے ہو۔یہ ہے وہ سلوک جو ان کی موت کے بعد بھی تو ان کے ساتھ کر سکتا ہے۔رابو داؤد کتاب الادب باب في بر الوالدين ) بنو سلمہ کا ایک آدمی آپ کے پاس آیا۔اس نے کہا۔اے اللہ کے رسول۔ماں باپ کے وفات پا جانے کے بعد ان کا کوئی حق باقی رہتا ہے۔جسے میں ادا کردوں۔آپؐ نے فرمایا۔ہاں ان کے لئے دُعا و استغفار کرو۔(ابو ان ابو داؤد کتاب الادب باب فی تبر الوالدین) تبر