آداب حیات — Page 217
۲۱۷ پر ہلاکت ہو ) میں نے اس کو سمجھ لیا تو میں نے کہا علیکم السامر و اللعنة ، تمہیں پر ہلاکت اور لعنت ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عالیہ چھوڑو بھی اللہ تعالیٰ تمام معاملات میں نرمی پسند فرماتا ہے۔میں نے عرض کیا۔یا رسول اللہ کیا آپ نے سنا نہیں جو ان لوگوں نے کہا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے بھی تو علیکم کہہ دیا تھا۔د بخاری کتاب الاستیذان باب کیف الرد على اہل الذمة السلام ) حضرت انس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کو اہل کتاب سلام کریں۔تو تم ان کے جواب میں وعلیکم کہا کرو۔اسلم كتاب السلام باب النهي عن الابتداء اہل الکتاب بالسلام وكيف به وعلیهم ) پس سلامتی اور امن کی یہ تو بد جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خدائے سلام کی طرف سے لا کر تمام دنیا کو دی ہے۔ہم اسے اختیار کریں۔اور اجنبیت کی فضا کو دور کرتے۔اپنی روحانی بیماریوں کا علاج کرنے اور آپس میں محبت و مودت بڑھانے کے لئے سلامتی کی راہوں پر چلتے ہوئے ہم السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبر کاتہ کو ڈارج دیں۔اور پھر اپنے آقائے نامدار حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر یہ دعا بکثرت پڑھتے رہیں۔اهم انت السّلامُ وَمِنكَ السّلَامُ تَبارَكتَ يَاذَ الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ رتمندی ابواب الصلوۃ باب ما يقول اذا سلم) کہ اے اللہ ! تو سلامتی دینے والا ہے۔تجھ ہی سے سلامتی مانگی جاتی ہے اے عزت اور جلال دانے خدا تو بڑا ہی بابرکت ہے۔تا اپنے اعمال صالحہ اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم اس الہی انعام کے حقدار ٹھہر ہیں اور اس خوشخبری سے سخط اٹھائیں۔