آداب حیات — Page 216
۲۱۶ 14 اس مجلیس کو سلام کرنا جائز ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے۔آپ نے اپنے پیچھے اُسامرین زید کو بٹھایا۔آپ حضرت سعد بن عباد ا کی عیادت کو چاہنے تھے۔یہ جنگ بدر سے پہلے کا قصہ ہے۔اس اثناء میں آپ ایک مجلس کے پاس سے گڑے جس میں مسلمان ، مشرکین اور یہود بیٹھے تھے۔ان میں عبد اللہ ابی بن سلول بیسی تھا اور عبداللہ بن رواحہ بھی اس مجلس میں تھے نبی کریم نے ان لوگوں کو سلام کیا۔پھڑک کر سواری سے اتر پڑے اور ان کو اللہ کی طرف بلایا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔بخاری کتاب الاستیذان باب السليم في المجلس فيه اختلاط من اسلمين والمشركين ) گناہ کا ارتکاب کرنے والے کو اس وقت تک سلام نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی اس کے سلام کا جواب دینا چاہیئے جب تک کہ اس کے تو یہ کے آثار نہ ظاہر ہوں۔حضرت کعب ابن مالک کا بیان ہے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا۔اور میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور آپ کو سلام کرتا پھر میں اپنے جی میں کہتا یعنی دیکھنا کہ آپ سلام کے جواب کے لئے اپنے ہونٹ ہلاتے ہیں یا نہیں۔یہاں تک کہ پچاس انہیں گزرگئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھ چکے تو آپ نے اعلان فرمایا کہ اللہ تعالے نے ہماری تو یہ قبول کی۔استخاری کتاب الاستیذان باب من لم يسلم على اقترف دنیا ) ۲۰۔اہل کتاب کے سلام کے جواب میں صرف " علیکم کہنا چاہیئے۔حضرت عائشہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ یہود کی ایک جماعت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا اقسام علیک العینی تم