آداب حیات

by Other Authors

Page 154 of 287

آداب حیات — Page 154

۱۵۴ کہا۔آپ نے حسب معمول اسے یرحمک اللہ کہا۔دو شخص نے جس نے چھینک آنے پر الحمد للہ نہ کہا تھا۔آپ سے شکایت کی۔آپ نے فرمایا کہ اس نے خدا کو یاد کیا تو میں نے بھی کیا۔تم نے خدا کو بھلا دیا تو میں نے بھی تم کو بھلا دیا د بخاری کتاب الادب باب لا یشمت العاطس اذالم محمد الله ) گفتگو کی ابتدار ہمیشہ السلام علیکم کے الفاظ سے کرنی چاہیئے۔ا ترمذی ابواب الاستیذان باب ما جاء فی السلام قبل الكلام ) ۲۵- گفتگو کے دوران کسی کی بات کاٹتی نہیں چاہیے۔جب ایک شخص گفتگو کر رہا ہو۔تو اس کی طرف متوجہ ہو کر اس کی بات سننی چاہیئے۔حضور صلی الہ علیہ وسلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی کی بات کاٹ کر کبھی گفتگو نہ فرماتے تھے۔آپ توجہ کے ساتھ معروضات سنتے اور ان کی حاجت براری فرماتے۔۲۶۔اخلاق کی درستگی کے لئے یہ بات بھی ضروری ہے کہ جب دو شخص باہم گفتگو کر رہے ہوں اور وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہوں کہ کوئی شخص ان کی گفتگو سُنے تو تجسس نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی کان لگا کر ان کی بات سننی چاہیئے۔حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس نے کسی کی گفتگو پر کان لگائے اور وہ اس بات کو نا پسند کرتے ہوں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا۔ابخاری کتاب التعبير باب من كذب في حلمه) حضرت انس سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بھلائی ہے اس کے لئے جس کے اپنے عیب ( کی تکر) نے اسے دوسروں کے عیب سے بے توجہ رکھا۔۲۷۔بزرگوں کے سامنے اونچی آواز کے ساتھ بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔بلکہ