آداب حیات — Page 153
وستم نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے ہوئے سُنا اور اس کی تعریف میں مبالغہ کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا۔کہ تم نے بلاک کر دیا یا اس آدمی کی کمر توڑ دی دبخاری کتاب الادب باب ما يكره من التخارج) حضرت ابوبکر کم سے روایت ہے کہ نبی کر یم کے حضور ایک شخص کا ذکر کیا گیا۔ایک شخص نے اس کی تعریف کی۔نبی کریم نے فرمایا۔وائے تجھ کو تو نے اپنے دوست کی گردن کاٹ دی۔اگر تم میں سے کسی کو کسی کی مدح ضرور ہی کرنی ہو تو چاہیے کہ کہے میں اس کو ایسا گمان کرتا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ اس کا حبیب ہے اور یقین سے نہ کہے کہ فلاں اللہ کے نزدیک اچھا ہے۔اسلم كتاب الزهد باب النهي عن الافراط في المدرح اذا حيف منه فتنة المدوخ ) اپنے شخص کی مرح جائز سے جو کامل معرفت والا ہو۔لیکن مبالغہ آمیز مدح کرنے سے حضور منع فرماتے تھے۔آپ فرماتے تھے۔میری اس قدر مبالغہ آمیز مدرج نہ کیا کرد۔جس قدر نصاری ابن مریم کی کیا کرتے ہیں۔میں تو خدا کا بندہ اور فرستادہ ہوں۔ا بخاری کتاب الانبیاء باب و اذکر فی الکتاب مریم اذا نبذت من اهلها ) معوذ بن عفراء کی بیٹی ربیع کی شادی پر جب آپ تشریف لے گئے تو لڑکیوں نے گاتے ہوئے یہ مصرعہ گایا۔فينَا نَى يَعْلَمُ مَا فِي عد۔کہ ہم میں ایسا ہی ہے جو ضرورت کے موقعہ پر) کل کی بات جانتا ہے۔آپ نے فرمایا یہ چھوڑ دو اور دیسی کہو جو پہلے کہ رہی تھیں۔دیبخاری کتاب المغازی باب شهود الملشکر بدراً) -۲۴ - گفتگو کے دوران اسلامی شعار کو اپنا نا چاہیئے۔جزاکم اللہ ، انشاء اللہ ماشاءاللہ انا للہ استغفر الله ، الحمد للہ کے الفاظ ادا کرنے چاہئیں۔ایک دفعہ دو شخص مجلس اقدس میں حاضر تھے۔ایک نے جب چھینک آئی تو اسلامی شعار کے مطابق الحمد للہ