آداب حیات — Page 146
ایک صحابی نے پوچھا کہ میر لئے سب سے زیادہ اندیشہ کی کیا چیز ہے ؟ حضور نے زبان کو ہاتھ سے پکڑ کر فرمایا۔"یہ" ( ترمذی ابواب الزھد باب ماجاء فی حفظ اللسان) ایک صحابی نے کہا کہ مجھے نصیحت کیجئے۔فرمایا۔ہمیشہ پیچ بولو۔۱۵ غصے اور جوش میں آکر تیزی سے جلد جلد بات نہیں کرنی چاہیئے۔بلکہ حمل کے ساتھ گفتگو کرنی چاہیے کیونکہ بے جا غصہ میں کہی گئی بات اپنا اثر کھو بیٹھتی ہے غصہ کو قابو میں رکھ کر باتیں کرنا حوصلہ مندی اور مردانگی کا ثبوت ہے۔حضرت ابو ہریرکا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! مجھے نصیحت فرمائیے۔آپ نے فرمایا غصہ مت کرہ۔اس نے سوال بار بار دہرایا۔آپ نے یہی فرمایا۔غصہ مت کر۔بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب) قرآن مجید میں مومنین کی ایک صفت کاظمین الغیظ بیان ہوئی ہے کہ وہ غصہ پی جانے والے ہیں۔اور نرمی اور ملا طقت سے بات کرنے والے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت میں تحمل اس قدر پایا جاتا تھا کہ ایک بار حضور کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ ایک بدو آیا اور اس نے آپ کی چادر کو پکڑ کر اتنی شدت سے کھینچا کہ آپ کے کندھے پر نشان پڑ گیا۔پھر دہ گھرے لہجے میں بولا۔یا محمد با تمہارے پاس اللہ کا جو مال ہے اس میں سے مجھے کچھ دلوائیے۔حضور نے اس کی طرف دیکھا مسکرائے اور حکم دیا کہ اسے کچھ دیا جائے۔حضور کا ارشاد مبارک ہے کہ پہلوان وہ نہیں جو دوسروں کو پچھاڑتا ہے بلکہ وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے۔د بخاری کتاب الادب باب الحذر من الغضب)