آداب حیات — Page 145
۱۴۵ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ۔) سورة النحل : ۱۲۶) ترجمہ ، اپنے رب کی راہ کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ لیا۔اور ان سے بہترین بات کے ساتھ مباحثہ کر۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں جو آدمی بے سوچے سمجھے منہ سے بات نکالتا ہے وہ آگ کی اتنی گہرائی میں گرتا ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ (مسلم کتاب الزهد باب حفظ اللسان) ہے۔حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا۔انسان بعض اوقات بے خیالی میں اللہ کی خوشنودی کی کوئی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے لیے نہتا درجات بلند کر دیتا ہے اور بعض اوقات وہ لاپر واہی میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی کوئی بات کر بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے دور جہنم میں جا گرتا ہے۔د بخاری کتاب الله فاق باب حفظ انسان) یعنی اللہ تعالی سے ہر وقت نمائی اور ہدایت کی توفیق مانگتے رہنا چاہیئے کہ وہ ہمیشہ نیک پھلی بات ہی منہ سے نکلوائے۔صدیقہ الصالحین ایڈیشن اول ص ۳۵ شعبه اشاعت وقف جدید) ۱۴ ایسے طریق سے کلام کرنا چاہیئے جو مخاطب کے فہم کے مطابق ہو میں سے وہ بات کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اس کی غلط فہمی دور ہو جائے۔حدیث میں آتا ہے صحابہ کرام کہتے ہیں کہ ہم کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ لوگوں سے ان کے فہم اور اور اک کے مطابق کلام کیا کرو۔(دیمی) حضور تو نباض اعظم تھے۔آپ ہمیشہ آدمی کی طبع کا اندازہ لگا کر جواب دیتے تھے صحابہ کرام جب بھی آپ سے کوئی سوال یا مسئلہ پوچھتے آپ ہمیشہ ان کی سمجھے اور حالت کے مطابق جواب دیتے تھے۔