آداب حیات

by Other Authors

Page 12 of 287

آداب حیات — Page 12

۱۲ ذیل میں قرآن مجید کی ظاہری و باطنی عزت و تذکرہ کے متعلق قرآن مجید احادیث نبوتہ اور سنت سول کی روشنی میں آداب دا مور پیش کئے جاتے ہیں۔- قرآن مجید عزت والا کلام ہے۔اس لئے اسے پاکیزگی کی حالت میں چھوا 1 اور پڑھا جائے اللہ تعالیٰ سورۃ واقعہ میں فرماتا ہے۔إِنه لَقُرانَ كَرِيم في كتب تَكْنُونِ O لا يَمَسُّهُ إِلا المُطَهَّرُونَ ) ر سورة الواقعه : ۷۸ تا ۸۰) جہاں اس کے معانی یہ ہیں کہ قرآن مجید کو وضو کر کے پڑھا جائے وہاں باطنی طور پر اس کے معانی یہ بھی ہیں کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف صرف اپنی لوگوں پر کھلتے ہیں جو دل کے پاک وصاف ہوں۔بد کردار اور بد قماش اور گندے ذہن رکھنے والے لوگ قرآن مجید کے معارف اور بیش بہا حکمتوں سے بہرہ ور نہیں ہو سکتے اور جو لوگ گندے ارادوں سے اسے بگاڑنے کی نیت سے اس کو چھونا چاہیں وہ اس پاک کلام کو چھو نہیں سکتے۔کیونکہ اس کتاب کے متعلق یہ دعوی ہے کہ یہ کتاب ہمیشہ ایسے ہاتھوں میں رہے گی جو معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہوں گے۔جیسا کہ سورۃ عبس میں آتا ہے۔بادِى سَفَرَةٍ كرَام بَرَرَة (سورة عبس : ١٤١٩) قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم پاک حال اور پاک دل ہوکر قرآن مجید کو چھو دیں۔جنبی مختلمہ ، حالفہ اور مستحاضہ ہونے کی حالت میں قرآن مجید کو نہ پکڑا جائے۔قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے پہلے اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ