آداب حیات — Page 137
حضرت عائشہ نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! جب آپ نے اس آدمی کو دیکھا تو اس اس طرح فرمایا۔پھر آپ خندہ پیشانی اور کشادہ روٹی کے ساتھ ملے۔رسولِ کریم نے فرمایا ، اسے عائشہ ! تم نے مجھے فحش گو کب دیکھا ؟ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے بڑا حال اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا ہو گا جس کو لوگ اس کی برائی سے اور بے حیائی سے محفوظ رہنے کے لئے چھوڑ دیں۔بخاری کتاب الادب باب لم يكن النبى فاحشاً ولا متفحشا) ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن فحش کہنے والا، بد زبان اور بد گو نہیں ہوتا۔ر ترمذی ابواب البر والصلة باب ماجاء في اللعنة) حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فحش جس میں ہو اسے عیب ناک کر دیا ہے۔اور حیاء حسن میں ہوا سے سنوار دینی ہے د ترندی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى الفحش) مومن کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ وہ بے حیائی اور بے ادبی کا کلام کرے بلکہ وہ بے ہودہ باتوں سے اجتناب کرتا ہے۔اور اللہ تعالی ان محسنوں سے محبت کرتا ہے جیسا محسنوں سے کہ وہ حسنین کا خاصہ بیان کرتا ہے کہ وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ ر سورة الشواری : ۳۸) اور وہ لوگ جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کی باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ حیاء ایمان کی شاخ ہے اور فحش گوئی منافقت کی شاخ ہے۔فحش گوئی بہت بڑا گناہ ہے۔فحش گو کی تو یہ قبول نہیں ہوتی جب تک کہ مظلوم خود معاف نہ کرے۔البتہ اس کا ایک کفارہ ہے اور وہ یہ کہ وہ مظلوم کے حق میں دعا کرتا