آداب حیات — Page 133
۱۳۳ زبان کا باہمی تعلقات پر نہایت گہرا اثر پڑتا ہے۔نیک کلام کے اندر ایک مقناطیسی کشش ہوتی ہے۔مومن کی زبان گندے اور غلیظ کلام سے محفوظ رہتی ہے۔کا کی اس کا کلام پاکیزہ ہوتا ہے ملحدیث میں مومن کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ طعنہ زن نہ بہت بد دعا کرنے والا ، نہ بے حیا اور نہ گندہ زبان ہوتا ہے۔وہ حیا دار ہوتا ہے۔اور حیا دار شخص کی زبان اس کے قابو میں رہتی ہے۔اتر ندى ابواب البر والصلة باب ما جاء في اللعنة) ذیل میں کلام رگفتگو کے آداب قرآن مجید اور احادیث کی روشنی میں بیان کئے جاتے ہیں تا کہ اسلام کی اس جامع ہدایت که اپنی زبان کی حفاظت کو ہر عمل پرا ہو کر ہم افضل مسلمان بن سکیں۔اگر کوئی بات کہو تو ہمیشہ سچ بات کہو پیچدار بات نہ کرو۔توحید کے بعد سب سے بڑی نیکی سیچ اختیار کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَولاً سَدِيدًا ٥ ) سورۃ الاحزاب : ١) اے مومنو! اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرد اور وہ بات کہو جو سچی ہو۔پھر سچی بات کہنے کا نتیجہ یہ بتا یا کہ يصلح لكم أعْمَا لَكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ 0 لَكُمُ ) سورۃ الاحزاب : ۷۲) اور اگر تم ایسا کرو گے تو وہ تمہارے اعمال کو درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔آنحضرت نے منافق کی ایک علامت یہ بتائی ہے کہ اِذَا حَدَّثَ كذب کہ جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے۔- گفتگو عام فہم اور وضاحت سے کرنی چاہیئے۔