آداب حیات

by Other Authors

Page 128 of 287

آداب حیات — Page 128

۱۲۸ تو سلام کے لئے جاتے ہیں۔جو ہمارے سامنے آئے گا۔ہم اُسے سلام کہیں گے۔موطا كتاب الجامع باب جامع السلام ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقف یا نا واقف ہوا سے سلام کرنے کو اسلام کی بہترین خصلت قرار دیا ہے۔د مسلم کتاب الایمان باب بیان تفاضل الاسلام وای اموره افضل) سوار کو پیدل چلنے والے شخص کو اور پیدل چلنے والے شخص کو بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہئیے حضرت اسامہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان ، مشرکین ، بت پرست یہود سب ملے جگے میٹھے تھے۔آپ ، ، نے ان کو السلام علیکم کہنا۔(بخاری کتاب الاستیذان باب التسليم في المجالس فيه اخلاط من المسلمين والمشركين ) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار پیدل کو سلام کرنے اور پیدل بیٹھنے والے کو ا ور تھوڑے بہتوں کو سلام کیا کریں۔مسلم کتاب السلام باب حقن الجلوس على الطريق - والسلام 9 اسلام ہر حالت میں عبادات بجالانے کا حکم دیتا ہے۔راستے میں اگر بلندی یا پستی آئے تو بھی آہستہ آواز کے ساتھ تکبیر و تہلیل اور تسبیح کرنی چاہیئے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ ہم (حج میں) رسول خدا کے ساتھ تھے ہیں جب ہم کسی بلندی پر چڑھتے تو زور کے ساتھ لا اله الا الله والله اکبر کہتے تھے۔پس جب ہماری آوازیں بلند ہوئیں تو بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔"اے لوگو! اپنی جانوں پر اک نی کردو۔کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکاتے بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہے۔بے شک وہ سنتا اور قریب ہے۔(تجرید بخاری حصہ دوم ص )