آداب حیات

by Other Authors

Page 129 of 287

آداب حیات — Page 129

۱۲۹ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری نے کہتے ہیں کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تھے تو اللہ اکبر کہتے تھے اور جب پتی میں اُترتے تھے تو سبحان اللہ کہتے تھے۔تجرید بخاری حصہ دوم ص ۷۳۷۲) ۱۰۔راستے میں اگر کسی کو سواری میں مدد کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرنی چاہیئے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا۔ہر روز جس میں آفتاب نکلتا ہے۔آدمیوں کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ ہے دو شخصوں میں انصاف کرنا صدقہ ہے۔کسی کی سواری میں مدد کرنا اسے سواری پر چڑھا دینا صدقہ ہے یا کسی کا اسباب اس کے جانور پر لد دا دینا صدقہ ہے۔و سلم كتاب الزكواة باب كل نوع من المعروف صدقة) ا راستہ پوچھنے والوں کو راستہ بتانا بھی نیکی ہے۔۱۲ - بازار یا رستہ میں چلتے پھرتے کوئی چیز نہیں کھانی چاہیئے۔۱۳ راستوں اور سایہ دار درختوں کے نیچے بول و براز نہیں کرنا چاہیئے تاکہ مسافر کو تکلیف نہ ہو۔یہ لعنتی کام ہے۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علہ ستم نے فرمایا۔دو لعنتی کاموں سے بچو۔صحابہ نے عرض کیا۔لعنت کا مستحق بنانے والے وہ دو کام کون سے ہیں۔آپ نے فرمایا۔لوگوں کی گزرگاہ میں پاخانہ پھرنا۔یا ایسی سایہ دار جگہ میں پاخانہ کرنا جہاں لوگ آکر آرام کے لئے بیٹھتے ہوں۔مسلم کتاب الطهارة باب کر ابنة النيرز في الطريق) -۱۴- راستہ میں کوئی ہتھیار کھلے طور پر لے کر نہیں گزرنا چاہیے تاکہ راہ گیر کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہماری مسجدوں یا بازاروں میں