آداب حیات — Page 49
۴۹ ۲ - والدین کی اطاعت کرنی چاہیے۔اور ان کے محکم کی تعمیل کرنی چاہیئے۔لیکن اگر وہ خلاف شریعت حکم دیں تو ان کی بات نہ مانی جائے۔جیسا کہ اللہ تعالے سورۃ لقمان میں فرماتا ہے۔وَإِن جَاهِدُكَ عَلَى أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلَه فَلَا تُطِعْهُمَا ( سورة لقمان : ۱۶) اور اگر وہ دونوں تجھ سے اس بات پر جھگڑا کریں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جس کا تجھے کوئی علم نہیں۔پس تو ان کی اطاعت نہ کر۔والدین کی نافرمانی کو حدیث میں کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے ( ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء في حقوق الوالدین) ماں باپ کی فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ماں باپ کی اطاعت خدا تعالیٰ کی اطاعت ہے اور ماں باپ کی نافرمانی خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے د کنز العمال جلد ۱۶ حدیث نمبر ۴۵۴۷۹ ۳ - والدین کی خدمت کی جائے۔اگر والدین تنگ دست ہیں تو اپنی استطاعت کے مطابق ان کی ضروریات زندگی کو بھی پورا کیا جائے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قُلْ مَا الْفَقْهُ مِنْ خَيْرِ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ۔(سورة البقرة : (۲۱۹) تو کہ کہ جو مال بھی تم خرچ کرو تو وہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے ہے۔والدین کی خدمت کرنے سے انسان جنت کو حاصل کر لیتا ہے۔