آداب حیات — Page 50
حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس شخص کی ناک خاک آلود ہو۔یہ بات آپ نے تین دفعہ دہرائی جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے کی حالت میں پایا۔یا ان دونوں میں سے ایک کو۔اور جنت میں داخل نہ ہوا۔اسلم كتاب البر والصلة باب رغم انف من ادرک ابویه ) ایک شخص نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا۔تمہارے جنت دوزخ ہیں ابن ماجه ابواب الادب باب تبر الوالدين) مطلب یہ ہے کہ اگر تم ان کی رضامندی حاصل کر لو گے تو جنت میں جاؤ گے۔اور اگر ان کی ناراضگی حاصل کی تو جنت سے محروم رہ جاؤ گے۔اور دوزخ میں داخل ہو گئے۔بعض حالات میں والدین کی خدمت جہاد سے بھی بالاتر ہوتی ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں جہاد پر آپ کی بیعت کرتا ہوں۔حضور نے پوچھا۔کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہے۔اُس نے کہاں۔ہاں دونوں۔آپؐ نے فرمایا۔تو واپس جاؤ اور ان کی خدمت میں جدوجہد کرو۔رياض الصالحين باب تبر الوالدين وصلة الارحام) حضرت اویس قرنی وہ خوش قسمت صحابی تھے جنہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جسمانی آنکھوں سے دیکھا نہ تھا۔اپنی والدہ کی خدمت میں مصرف رہنے کی وجہ سے وہ حضور کی زیارت نہ کر سکے تھے لیکن اُنہیں ”صحابی“ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔مجھے یمن کی طرف سے خوشبو آتی ہے (حضور نے ایک بار اس کے متعلق فرمایا تھا۔اس کی ماں ہے وہ اس سے