آداب حیات — Page 280
۲۸۰ ۱۳- سفر میں زادِ راہ ساتھ لے جانا چاہیے۔لیکن یاد رکھنا چاہیے۔اِن خَيرَ الزَّادِ التَّقْوى (سورة البقره : ۱۹۸) کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور کہا یا رسول اللہ ! آپ مجھے زاد راہ عطا کیجیئے ؟ فرمایا زَوَدَكَ اللهُ التَّقُوى رتمندی ابواب الدعوات باب ما جاء ما لقول اذا ور درع انسانا) الله تقومی کو تیرا نداد راہ کرے۔-۱۴- دوران سفر اپنے دوسرے مسافر بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے ان کی مدد کرنا۔ان کو کھانے میں سے دینا ان کا حق بنتا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وَاتِ ذَا الْقُرُ فِى حَقَهُ وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلا تُجدد تبذيرا - (سورة بنی اسرائیل ، ۲۷) اور تو قریبی رشتہ دارہ کو اس کا حق دے اور مسکین کو اور مسافر کو۔اور و اسکا۔فضول خرچی نہ کر۔ابوسعید الخدری کا بیان ہے کہ ہم سفر میں تھے۔جو ایک آدمی اونٹ پر آیا۔اور دائیں بائیں دیکھنے لگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جس کے پاس سواری زائد ہو اسے دیدے اور جس کے پاس سواری نہیں کھانا زائد ہے تو وہ اسے دیدے۔اسی طرح آپ نے متعدد چیزیں گنوائیں۔یہاں تک کہ ہم سمجھے۔زائد مال میں ہمارا کچھ حق نہیں۔سلم کتاب اللقطة باب استجاب المواساة لفضول المال)