آداب حیات — Page 270
۲۷۰ -A - تعربیت کے لئے جائیں تو موت فوت کے متعلق بدعات اور رسومات سے قطعی پر ہیز کریں۔مجلس فاتحہ خوانی قل خوانی دجو مرنے والے کی وفات کے تیسرے دن کی جاتی ہے) میں شامل نہ ہوں۔یاسر بنتا ہیں۔سول کریم صلی الہ علیہ وسلم آپ کے خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کے زمانے میں ان کی کوئی سند نہیں ملتی۔آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ (مسلم كتاب الجمعة باب خطيبته في الجمعة ) کہ ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے بدعت کے بے پناہ داغوں نے آج مسلمانوں کو گمراہی کے راستوں کی طرف دھکیل دیا ہے۔یاد رکھنا چاہیے کہ میت کو صرف دُعا اور صدقہ پہنچتا ہے۔تعزیت کے لئے جائیں تو عورتوں کو چاہیے کہ وہ جنازوں کے ساتھ نہ جائیں۔حضرت ام عطیہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ ہمیں جنازوں کے پیچھے پیچھے جانے سے منع کیا گیا۔مگر اس باب میں ایسا تشدد نہیں کیا گیا۔ر مسلم کتاب الجنائز باب النهي النساء عن اتباع الجنائية ) جنازہ کے ساتھ توجہ اور ماتم کرتے ہوئے جانا ایک نہایت نازیبا حرکت ہے اسلام نے اس سے روکا ہے۔حضور نے تو اس جنازہ کے ساتھ صحابہ کو جانے سے منع کر دیا جس پر کوئی صورت نوحہ کر رہی ہو۔ر این ماجه ابواب الجنائز باب في النهي عن النياحة) جنازہ جب جائے تو تعظیماً کھڑے ہو جانا چاہیئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ جاتا تو کھڑے ہو جاتے تھے۔بخاری میں روایت ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ جنازہ جاتا ہو تو اس کے