آداب حیات

by Other Authors

Page 264 of 287

آداب حیات — Page 264

۲۶۴ تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔اگر ایک مسلمان کو دکھ یا تکلیف ہو تو تمام مسلمان اس کے دکھ اور درد کی وجہ سے غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔دُکھ کی ان انتہائی تکلیف دہ گھڑیوں میں ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے دکھی بھائیوں کے دکھ درد میں شریک ہو اور ان کے ساتھ تعزیت کرے۔تعزیت سے مراد ہے مرنے والے کے عزیزوں سے ہمدردی کرنا۔جب تعربیت کے لئے جائیں تو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھا جائے۔جب کسی کی موت کی خبر نہیں تو اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کے الفاظ کہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔(ابو داؤد کتاب الجنائز باب فی الاسترجاع ) جو شخص مصیبت کے وارد ہونے پر سچے دل سے یہ الفاظ انا لله وانا إلَيْDOWNLOAD NAW کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوں کے دکھوں کا ازالہ کسی اور کہ جنگ میں فرما دیتا ہے۔اور ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے۔اللہ تعالے قرآن مجید میں فرماتا ہے۔وبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لله وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ، أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَونَ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمة وأوليككَ هُمُ المُهتَدُونَ۔سورة البقره : ۱۵۶ ۱۵۷) ترجمه در اور تو ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دے جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے برکتیں اور رحمت نازل ہوتی ہے۔اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔