آداب حیات — Page 263
تعزیت کے آداب موت ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی کو قرار نہیں۔قرآنی ارشاد كُل نفس ذائقة الموت کے مطابق ہر جان کو موت سے ہمکنار ہوتا ہے جبوت انسان کے لئے دوسرے عالم میں جانے کا ایک دروازہ ہے۔جس سے ہر ذی رح کو گزرنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص کی موت مقررہ وقت پر خدا تعالے کی تقدیر اور حکمت کے مطابق ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالے سورۃ الحدید میں فرماتا ہے۔ما أَصَابَ مِنْ مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي انْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتب منْ قَبْلِ أَن شَبْعَاهَا إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللهِ يَسيره لكيلا تا سوا عَلى مَا فَاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِمَا أتكم والله لا يُحِبُّ كُل مُختَالٍ فَخُورِه (سورۃ الحدید : ۲۴۰۲۳) b ترجمه و زمین میں کوئی مصیبت نہیں آتی اور نہ تمہاری جانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے لیکن اُس کے ظہور سے پہلے ہی ہم نے اسے مقرر کر دیا ہوتا ہے۔یہ بات اللہ تعالے کے لئے بالکل آسان ہے تاکہ تم کو اپنی کوتا ہی پر کوئی افسوس نہ ہو اور نہ اس پر تم خوش ہو جو اللہ تم کو دے دے اور اللہ کسی سینی خود سے اکٹر باز کو پسند نہیں کرتا۔مصائب اور مشکلات کے نزول کے وقت اسلام صبر اور دعا کی تعلیم دیتا ہے۔اور یہ ایسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔