آداب حیات

by Other Authors

Page 250 of 287

آداب حیات — Page 250

۲۵۰ وقت ہوئی جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے۔ذیل میں سنت نبوی اور احادیث مبارکہ کے تحت عبادت کے آداب پیش کئے جاتے ہیں۔ا۔بیماروں کی عیادت کرنے میں دوست، دشمن ، مومن کافر کسی کی تخصیص نہیں کرنی چاہیئے۔حدیث میں آتا ہے۔الخلق عيال الله (کنز العمال جلد نمبر ۶ حدیث نمبر ۱۷۱۷۱) که ساری مخلوق اللہ تعالیٰ کی ال اولاد ہے۔پس خواہ انسان کا تعلق کسی بھی عقیدے کے ساتھ ہو ان کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی رکھنا مومن کا فرض ہے حضور اکرم صلی الہ علیہ وسلم بلا تخصیص مذہب و ملت بیماروں کی عیادت کرتے تھے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے ایک یہودی لڑکا نبی کریم کی خدمت کیا کرتا تھا بیمار ہوگیا۔نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم اس کی مرض الموت میں عیادت کو آئے۔اور اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا مسلمان ہو جا۔اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس تھا۔اس نے کہا۔بیٹے ابو القاسم کی بات مان ہے۔وہ لڑکا مسلمان ہو گا۔نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا سب تعریف اس اللہ کی ہے جس نے اُسے آگ سے نجات دی۔بخاری کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبيبتي قمات هل لیستی علیہ) غریب سے غریب بیمار ہوتا تو آپ اس کی عبادت کو تشریف لے جاتے تھے۔(شمائل ترمذی باب ما جاء فی التواضع الرسول الله خدا تعالی کی خوشنوری اور محبت کی خاطر بیمار کی عیادت کرنی چاہیئے۔کیونکہ جب خدا تعالیٰ کے لئے کسی کی عیادت کی جائے تو خدا تعالیٰ اپنے اس بندے پر بہت خوش