آداب حیات — Page 238
سانس لینے سے منع کیا۔اسلم کتاب الاشربة باب كراهة النفس في الاناء) ایک شخص کے یہ پوچھنے پر کہ ایک دم میں سیر نہ ہوں تو حضور پھر کیا کریں۔فرمایا دم لینے کے لئے منہ سے پیالہ علیدہ کر دیا کرد۔نرمندی ابواب الاشربہ باب ما جاءنی کراحیتہ النفخ في الشراب) پینے کی چیز میں پھونک نہیں مارنی چاہیئے۔حضرت ابوسعید الخدری سے روایت ہے کہ بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع فرمایا۔ایک شخص نے عرض کیا۔برتن بھی تنکے دنکے دیکھے جائیں تو پھر ؟ پانی گرا کر صاف کرے) ( ترمذی ابواب الاشربہ باب ما جاء في كراهيته النفخ في الشراب) - مشکیزہ کا منہ کھول کر منہ لگا کر پانی نہیں چنا چاہئیے۔حضرت ابوسعید الخدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مشکیزہ کا منہ کھول کر منہ لگا کر پانی پیا جائے۔اسلم و بخاری) حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول کریم نے مشک یا سقہ کے منہ سے پینے کو منع فرمایا ہے۔تجرید بخاری حصہ دوم ص ۴۳) و سونے اور چاندی کے برتنوں میں پانی یا کوئی پینے کی چیز نہیں پینی چاہیئے۔حضرت أم سلام زوجہ مطہرہ فرماتی ہیں کہ آنحضرت نے فرمایا۔الذي يشربُ فى انِيَةِ الفِضَّةِ إِنَّمَا يَجَرُ جِرُ فِي بَطنِهِ نَارَ ܟܢܳܐ ا مسلم کتاب اللباس والزینته باب تحریم استعمال اوافي الذهب والفضة) کہ جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے گویا وہ اپنے پیٹ میں دوزخ کی