آداب حیات

by Other Authors

Page 166 of 287

آداب حیات — Page 166

144 تلخی پیدا کرنے والی سچی باتیں بھی آگے نہ پہنچاؤ۔ایسی باتیں جود دوسرے کے لئے تلخی کا موجب ہوں اگر سچی ہوں تو آنحضرت صلی للہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہیں وہ سچی باتیں دوسرے تک پہنچانے کا کوئی حق نہیں ہے۔اگر جھوٹی باتیں ہوں تو وہ افترا ہے چغلی کا مضمون ہی سچی باتوں سے تعلق رکھتا ہے لیکن اس سچ میں جھوٹ بھی شامل ہو جاتا ہے۔یہ الگ مسئلہ ہے۔مراد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ ہے کہ اگر بات کرنے والے نے سچا عیب بیان کیا ہو اور اس بچے یب کو سن کر اس شخص تک بات پہنچا دی جائے جس کے متعلق وہ بات بیان ہوئی تھی تو کہنے والا بھی سچا دوسرا جو وسیلہ بنا وہ بھی سچا ہے۔لیکن شرکت معیوب اور جھوٹی اور گندی ہے۔ایسی گندی حرکت ہے کہ حضور اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیںکہ گویا کی نے کسی کی طرف تیر پھینکا اس کے سینے کا نشانہ باندھا لیکن وہ اس کو لگا نہیں۔اس کے قدموں میں جا پڑا۔ایک شخص نے سچائی کے نام پردہ تیر اٹھایا اور اس کے سینے میں گھونپ دیا کہ نشانہ تو یہاں کا تھا۔اس تیر کو یہاں کرنے کا کا حق ہے۔وہ بھی قاتل ہے بلکہ زیادہ مکروہ قاتل ہے۔پہلے تو شاید کسی غصے کی وجہ سے کسی وجہ سے خواہ وہ جائز تھی یا ناجائز تھی۔ایک طبعی جوش سے مجبور ہو کر یہ حرکت کی۔اس ظالم نے تو بغیر کسی جوان نے ایک شخص، معصوم شخص کی جان لی ہے۔بدظنی سخت قسم کا جھوٹ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں اور یہ سلم باب تحریم الظن و بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔باطنی سے بچو کیونکہ ہنی سخت قسم کا جھوٹ ہے۔ایک دوسرے کی عیب کی ٹوہ میں نہ رہو۔اپنے بھائی