آداب حیات — Page 152
۱۵۲ سے بڑھ جاتی ہے۔مگر آخر برکت گھٹ جاتی ہے۔ر مسلم كتاب المساقاة والمزارعة باب النخص عن الخلف فى البيع سمرہ کہتے ہیں مجھے رسول کریم نے فرمایا۔جب تو کسی کام پر قسم کھائے اور پھر اس کا غیر بہتر معلوم ہو تو جو بہتر ہو وہ کرے اور قسم کا کفارہ دے دے۔ا مسلم کتاب الایمان باب ندب من حلف يميناً قراى غيرها خير أمنها) آنحضرت فرماتے تھے کہ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر سامان فروخت کرنے والے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں کرے گا۔مسلم کتاب الایمان باب بسان غلط حضور نے ہمیں غموس جھوٹی قسم جس کے ذریعہ انسان کسی مسلمان کا حق مارے) کو گناہ کبیرہ قرار دیا ہے۔د بخاری کتاب الایمان والنذور باب يمين الغموس ولا تتخذوا بما نكم ) یہ بہت بُری خصلت ہے کہ انسان میں کے پاس جائے اس کی بات کرے۔یہ منافقت ہے۔ادھر کی بات سن کر ادھر اور ادھر کی بات سن کر ادھر نہیں بتانی چاہیئے کیونکہ اس سے فساد پھیلتا ہے۔حضرت ابو ہریہ کا سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا۔قیامت کے دن لوگوں میں سب سے بڑا اللہ کے نزدیک وہ ہوگا جو دو رخا ہو۔اس طرف آئے تو ایک چہرہ کے ساتھ اور اس طرف جائے تو دو کر چہر ے کے ساتھ۔ان کے پاس اگر کچھ کہتا ہے، دوسروں کے پاس جا کہ کچھ کہتا ہے۔۲۳ بخاری کتاب الادب باب ما قيل في ذى الوجهين) کسی کی تعریف کرتے ہوئے مبالغہ اختیار نہ کیا جائے۔ایسی مدح مکروہ ہے حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ