آداب حیات

by Other Authors

Page 103 of 287

آداب حیات — Page 103

١٠٣ سامنے میری اُمت کے اعمال پیش کئے گئے اچھے اور بڑے بھی۔۔۔۔۔۔۔اور اس کے بڑے اعمال میں سے یہ عمل بھی نظر آیا کہ کوئی شخص مسجد میں کھنگار (علیمی) پھینکے اور اسے لوگوں کی نظر سے اوجھل نہ کرے یعنی مسجد کو گندہ کرے۔مسلم كتاب المساجد ومواضع الصلوة باب النهي عن البصاق في المسجد)۔مساجد میں بدبو اور عفونت کو دور کرنے کے لئے سعود (اگر بتی جلانی چاہیئے۔مساجد کی تطہیر لازم ہے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مساعید کو صاف رکھو اور اس میں عود وغیرہ جلاتے رہو۔-K (تفسیر کبیر جلد دوم صن! نیا ایڈیشن) مساجد میں تصویریں نہیں بنانی چاہیں۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضر تمجید اور حضرت ام سلیم نے عیش میں ایک گرجا دیکھا تھا جس میں تصویریں تھیں۔انہوں نے نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیاتو آپ نے فرمایا۔ان لوگوں میں سے کوئی نیک مروجب مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے اور اس میں تصویریں بنا دیتے۔یہ لوگ اللہ کے نزدیک بدترین خلقت ہیں۔تجرید بخاری حصہ اول حث (۱۱) ۱۸ - مساجد میں باجماعت نمازوں کو ادا کرنا چاہیئے۔کیونکہ مسجدوں کی اصل زینت نمازیوں کے ساتھ ہے نہ کہ عمارتوں کے ساتھ۔احادیث میں مساجد میں ادائے نماز کی بہت فضیلت آئی ہے۔حضرت او سر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جماعت کی نماز، اپنے گھر کی نماز اور اپنے بازار کی نماز پر چلپیس دیجھے (ثواب نصیحت) زیادہ رکھتی ہے۔اس لئے کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھا وضو کرے۔اور مسجد میں محض نماز کے ہی ادا کرنے کو آئے۔تو وہ جو قدم رکھتا ہے اس پر اللہ ایک درجہ اس کا بلند کر دیتا ہے۔یا ایک گناہ اس کا معاف فرماتا ہے۔یہاں تک کہ وہ مسجد