آداب حیات

by Other Authors

Page 97 of 287

آداب حیات — Page 97

۹۷ پس بیت اللہ کا بہت ادب و احترام کرنا چاہیئے اور کوئی ایسا کام نہیں کرتا چاہیئے جو ان کے تقدس اور احترام کے خلاف ہو۔ذیل میں قرآن مجید، سنت نبوی اور احادیث نبویہ کی روشنی میں بیت اللہ کی حرمت اور پاسبانی کے لئے آداب درج کئے جاتے ہیں۔ا۔مسجد میں پاک وصاف ہو کر صاف ستھرا لباس پہن کر اور باوضو ہو کر جانا چاہئے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف میں فرماتا ہے۔يبني أَدَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا ولا تُسْرِفُوا إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ۔(سورۃ الاعراف (۳۲) اے آدم کے بیٹو! ہر مسجد کے قریب زینت ( کے سامان) اختیار کر لیا کرو۔اور کھاؤ اور پیو اور اسراف نہ کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہو بھی خوب پاک وصاف ہو کر کسی مسجد کی طرف جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے۔ابو داؤد كتاب الصلوۃ باب في فضل المشى الى الصلوة) جنبی مرد کا اور حیض و نفاس کی حالت میں عورت کا مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔۲۔مسجد میں داخل ہوتے وقت مسجد میں پہلے دایاں پاؤں رکھنا چاہیئے۔انسانی فطرت میں وائیس کو بائیں پر ترجیح دینار کھا گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وستم کی قطرت نہایت درجہ پاک تھی۔آپ فرماتے تھے۔الْأَيْمَنُ فَالْأَيْمَنُ ر بخاری کتاب الاشربة باب الالمين فالائمين في الشرب)