آداب حیات — Page 51
۵۱ نیک سلوک کر نیوالا ہے وہ ایسا نیک بخت ہے کہ اگر اللہ پر قسم کھائے تو اللہ اس کی قسم سیتھی کر دے اسلم کتاب الفضائل۔فضائل اویس قرنی ) اللہ تعالے کے ہاں والدین کی خدمت کو بہت مقبولیت حاصل ہے۔اس بات کا اندازہ ایک حکایت سے ہوتا ہے۔جو حضور نے ایک دفعہ بیان کی کہ تین شخص سفر پر گئے۔رات کو ایک غار میں پناہ لی۔ایک پتھر کے لڑھکنے خار کا دریا نہ بند ہو گیا۔تب مسافروں نے اپنے نیک ترین عمل کے واسطہ سے خدا کے حضور التجا کی۔ان میں سے ایک نے کہا۔اے خدا۔میرے والدین بوڑھے تھے۔میں اُن سے پہلے نہ اپنے بیوی بچوں کو اور نہ لونڈی غلاموں کو خوراک دیتا تھا۔ایک دن مجھے کسی سبب سے گھر آنے میں دیر ہوگئی۔واپس آیا تو دیکھا کہ ماں باپ سوچکے ہیں۔میں نے دودھ دوھا۔مجھے گوارا نہ ہوا کہ ان سے پہلے کیں اپنے بیوی بچوں ، لونڈی اور غلاموں کو کھلاؤں۔میں دودھ کا پیالہ ہاتھ میں لے کر اُن کے سرہانے کھڑا ہو گیا کہ وہ جاگیں تو پئیں۔اسی انتظار میں رات گزر گئی۔صبح ہوئی تو ان کی آنکھ کھلی اور انہوں نے دودھ پیا۔اے اللہ ! اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے کیا تھا تو تو اس پتھر کی مصیبت کو دور کر دے۔اس پر پتھر کچھ سرک گیا۔(اس کے بعد باقی دو شخصوں نے بھی اپنے نیک ترین عمل کے ذریعہ خدا سے التجا کی اور دعاؤں سے وہ پتھر ہٹ گیا۔) البخاری کتاب الادب باب اجابة الدعاء من بر الوالدين) پس جہاں تک ہو سکے والدین کی خدمت کی جائے۔ان کی ناراضگی سے بچا جائے۔کیونکہ والدین کی دعا شرف قبولیت پاتی ہے۔حضور کا فرمان ہے۔تین دعائیں بلا شبہ قبول ہوتی ہیں۔(1) مظلوم کی دُعا۔(۲) مسافر کی دعا