آداب حیات — Page 261
عبد اللہ بن ثابت جب بیمار ہوئے حضور ان کی عبادت کو گئے تو ان پر غشی طاری تھی آواز دی دو سن نہ سکے، فرمایا۔افسوس البو الربیع۔تم پر سہارا زور اب نہیں چلتا۔یسن کہ عورتیں بے اختیار چیخ اٹھیں اور رونے لگیں۔لوگوں نے روکا۔آپ نے ارشاد فرمایا۔اس وقت رونے دو۔مرنے کے بعد البتہ رونا نہیں چاہئیے۔عبد اللہ میں ثابت کی لڑکی نے کہا مجھ کو ان کی شہادت کی امید تھی۔کیونکہ جہاد کے سب سامان تیار کر لئے تھے۔آپ نے فرمایا۔ان کو نیت کا ثواب مل چکا۔(ابو داؤد کتاب الجنائز باب في فضل من مات بالطاعون ) -۱۴ عورتوں کا مردوں کی عیادت کرنا جائز ہے۔حضرت اُم در دائر نے ایک انصاری مرد کی عبادت کی جو مسجد میں رہتے تھے۔-in د بخاری کتاب المرضى باب عيادة النساء الرجال) حضرت عائش یہ کا بیان ہے کہ جب نبی کریم مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت بو بکر اور حضرت بلال کو بہت تیز بخار ہوگیا تو وہ دونوں کی عبادت کو گئیں اور پوچھا انے والد بزرگوار یا آپ کا کیا حال ہے ؟ اور اسے بلال ! آپ کا کیا حال ہے؟ د بخاری کتاب المرضى باب عباده العشاء الرجالی) دا۔مریض کے پاس اس کی طبیعت یا بیماری کے مطابق تحفہ پھل یا کھانا لے کر جانا بھی محبت و مودت کے تعلق میں مزید اضافہ کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔تم آپس میں تھے دیا کرد۔باہم محبت بڑھے گی۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو خوشبو دار گھاس یا پھول دیا جائے۔اس کو رد نہ کرے کیونکہ یہ سبک اور خوشبو دار چیز ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد دوئم ص ۳۲ مطبع میهمینه مصر)