آداب حیات

by Other Authors

Page 258 of 287

آداب حیات — Page 258

مہمانی نہ کی اس رات اس قبیلے کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا وہ ان صحابہ کے پاس آئے اور پوچھا تم میں سے کوئی وہم کر سکتا ہے ؟ صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا۔ہاں میں کر سکتا ہوں۔چنانچہ وہ بیمار کے پاس آئے اور سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا۔اس پر وہ سردار اچھا ہو گیا اور خوش ہو کر بکریوں کا ایک چھوٹا سا ریور ان کو بطور انعام دیا لیکن انہوں نے یہ یور قبول نہ کیا اور کہا کہ جب تک آنحضرت سے پوچھ نہ لوں یہ ریوڑ نہ لوں گا۔چنانچہ آنحضرت کے پاس وہ آئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا اور ساتھ ہی عرض کیا اے اللہ کے رسول کا ہمیں نے صرف سورۃ فاتحہ پڑھ کر دم کیا تھا۔اس پر حضور نے نیسم فرمایا اور پوچھا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ دم ہے۔پھر فرمایا۔تم اس قبیلہ سے بکریاں لے لو اور میرا حقہ بھی ان بکریوں میں رکھو۔مقصد یہ ہے کہ اس صورت حال میں جو انعام یا نذرانہ انہوں نے دیا ہے اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں۔ر مسلم کتاب السلام باب جواز اخذ الاجرة على الرقية سورة فاتحہ کا ایک نام سورۃ الرقیہ بھی ہے جس کے معنی ہیں دم کرنے والی سورت قرآن مجید میں شفاء کا لفظ چھ مقام پر آیا ہے۔اگران چھ آیات کو پڑھ کر دم کیا جائے تو اللہ تعالے اپنے فضل سے شفا دیتا ہے۔وہ چھ آیات یہ ہیں۔ياَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَ تَكُو مَوْعِظَةٌ مِّن مَّا يَكُمُ وَشِفَا لِمَا نِي الصدري وَهُدًى وَمَا حَمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ٥ وَرَحْمَةٌ (سورۃ یونس : (۵۸) اے لوگو با یقینا تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آچکی ہے۔اور وہ شفا ہے اس کے لئے جو سینوں میں ہے اور ہدایت اور رحمت ہے مومنوں کے لئے۔تم على مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسُلِكَى سُبُلَ رَبِكِ ذُلُلاً يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَاب مُختلف الوَانُهُ فِيهِ شِفَاء لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ