آداب حیات — Page 255
۲۵۵ - اللهُمَّ رَبَّ النَّاسِ اذْهَبِ الْبَاسَ وَاشْفِ اَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ الأَشْفَاءُكَ شِفَاءٌ لَّا يُغَادِرُ سَقَماً د بخاری کتاب الطب باب مسبح التراقي في الوجع بيده اليمنى ) اے اللہ لوگوں کے رب تکلیف دور کرا در تندرستی عطاکر تو ہی شفا دینے والا ہے۔کوئی شفا نہیں مگر تیری شفا۔ایسی شفا جو بیماری نہ چھوڑے۔(بخاری وسلم) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جو شخص بیمار کی عیادت کرے توسات بار کہے اسال الله العظيمَ رَبَّ العَرْشِ الْعَظِيمِ ان يشفيك رابو داؤد کتاب الجنائز باب الدعا للمريض عند العيادة) ترجمہ میں سوال کرتا ہوں اللہ عظمت والے سے جو کہ عرش عظیم کا رب ہے تنتجھ کو تندرستی عطا کرے ، اللہ اس مرض سے شفا دے گا اگر اس کی اجل مقدر نہیں۔البوسعید الخدری سے روایت ہے کہ حضرت جبرئیل حضرت نبی کریم کے پاس آئے اور کہا یا محمد یا آپ بیمار ہیں۔فرمایا۔ہاں۔تو اس نے کہا جِسمِ اللَّهِ ارْقِيكَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُوزِيكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْعَيْنِ حَاسِدٍ اللَّهُ يَشْفِيكَ بِسمِ اللَّهِ ارْتِكَ اللہ کے نام کے ساتھ میں تعویذ کرتا ہوں تجھ کو ہر ایک تکلیف دینے والی چیز سے ہر ایک نفس کے شر سے یا ہر ایک حاسد کی آنکھ سے اللہ تجھ کو شفا دے میں اللہ کے نام کے ساتھ تجھ کو تعویذ کرتا ہوں۔مسلم کتاب السلام باب الطلب والمرض والرقی) - مریض کی جب عیادت کی جائے تو اس کی توجیہ دعا کی طرف بھی پھرائی جائے کہ آنحضرت صلی الہ علیہ دستم بیار کی عبادت کا بہت اچھی طرح خیال رکھتے تھے اور دعا کی طرف اُسے متوجہ بھی فرماتے تھے۔حضرت عثمان بن ابی العاص کا بیان ہے کہ اس نے رسول کریم کے پاس اپنے درد