آداب حیات — Page 253
۲۵۳ حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مسلمان جب مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو واپس لوٹنے ایک بہشت کی میوہ خوری ہیں ہوتا ہے۔وسلم کتاب البر والصلة باب فضل عيادة المراضي مریض کی عیادت کے لئے جب جایا جائے تو اس کے پاس بیٹھ کر اسے نسلی دی جائے۔اور محبت کے ساتھ اس سے گفتگو کی جائے اور اچھی باتوں کے ساتھ اس کا دل بہلایا جائے کیونکہ بیماری میں انسان بہت حساس ہو جاتا ہے۔اس کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں اپنے ہمدرد دوست کی تسلی و تشفی کے چند الفاظ بھی اس کی مرض اور تکلیف کی شدت کو کم کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔مراض کو یوں تسلی دی جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری پیدا نہیں کی جس کی دوا نہ ہو۔زبخاری کتاب الطب باب ما أنزل الله من داره الا انزل له شفاعة) اور یہ کہ اس کی بیماری سے اس کے گناہ جھڑ جائیں گے۔جیسا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے مومن کو جو بھی دکھ یا تکلیف یا بیماری یا رنج پہنچتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کی کمزوریوں اور غلطیوں کا کفارہ کر دیا ہے۔یعنی بڑے بڑے نقصانات اور آخرت کی گرفت سے اللہ تعالیٰ اس کو بچا لیتا ہے۔ر مسلم کتاب البر والصلة باب ثواب المؤمن فيها يصيبه) حضرت رسول کریم فرماتے تھے کسی مسلمان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے گناہوں کو جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے۔بخاری کتاب المرضى باب ما يقال المريض وما يحبيب ) سفر السادات میں ابو سعید سے روایت ہے کہ جب تم کسی مریض کی عیادت