آداب حیات — Page 242
۲۴۲ حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی کھانے کے لئے دعوت دیا جائے تو قبول کرے۔اور اگر روزہ دار ہو تو ان کے حق میں دعا کرے (اور اگر روزہ دار نہ ہو تو) کھانا کھالے اسلم كتاب النکاح باب الامر باحجابة الداعي الى دعوة) بن بلائے دعوت میں شریک نہیں ہونا چاہیئے۔دعوت کے لغوی معنی ہی بلانے اور پکارنے کے ہیں۔۔اگر کوئی شخص دعوت پر جاتے ہوئے ساتھ ہولے تو پھر صاحب خانہ سے اس کے لئے اجازت طلب کی جائے۔ابو مسعود البدری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم کی دعوت کی۔پانچ کی دعوت تھی۔ان کے پیچھے ایک اور غیر مد و شخص ہو لیا۔جب دروازے پر پہنچے تو آپ نے صاحب دعوت سے کہا کہ یہ شخص ہمارے ساتھ ہو لیا ہے اگر چاہو تو اذن دے دو۔ورنہ واپس چلا جائے۔اس نے عرض کیا۔میں اذن دیتا ہوں اس کو یا رسول الله ! مسلم كتاب الاشربة باب بالفعل الضيف اذا تبعه غیر من دعا صاحب الطعام ) دعوت کے لئے وقت پر جانا چاہیے۔پہلے جا کر بیٹھنانا مناسب ہے کیونکہ اہل خانہ کو اس سے پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔وہ آپ کو اپنی پوری توجہ اور وقت نہیں دے سکتا اور بجائے محبت بڑھنے کے مغائرت کا احساس دلوں پر غالب آنے لگا ہے۔۵ قرآنی محكم فَسَلِّمُوا عَلى الكُمُ کے مطابق کہ اپنے عزیزوں اور دوستوں کو سلام کہو۔سلام کرنا چاہیے اور مصافحہ کرنا چاہیئے۔