آداب حیات — Page 237
کھڑے ہو کر پانی پینے کی مکمل طور پر ممانعت نہیں آتی حضرت ابن عمر یہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سم بوقت ضرورت چلتے ہوئے بھی کھا پی لیتے تھے اور کھڑے ہو کر پانی پی لیتے تھے۔ا تمه ندی کتاب الاشربہ باب ما جاء في المرخصة في المشرب قائما ) حدیث میں آتا ہے حضرت علی کرم اللہ وجھہ مسجد کو نہ میں تشریف لائے اور کھڑے ہی کھڑے پانی پی کر فرمایا۔سر ایک شخص اس طرح کھڑکے ہو کر پینے کو مکروہ سمجھتا ہے۔حالا نکہ میں نے خود بنی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح پیتے ہوئے دیکھا ہے جس طرح تم اب مجھے دیکھ رہے ہو۔(بخاری کتاب الاشربہ باب الشرب قائماً ) حضرت ابن عیاسی کہتے ہیں کہ نبی کریم نے (آب زمزم کھڑے ہو کر پیا۔تجرید بخاری حققه دوم ص ۴۳۳) ه - پانی پیتے وقت درمیان میں تین دفعہ سانس لینی چاہیئے۔اس میں ایک طبی حکمت ہے کہ اگر پانی یک دوم پیا جائے تو زیادہ پیا جاتا ہے اور اس سے معدہ خراب ہو جاتا ہے حضرت انش بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم پانی پینے کے درمیان تمین بار دم لیتے تھے۔مسلم کتاب الا مشربة باب كراهقة النفس في الاناء) حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر اونٹ کی مانند ایک دم مت پیا کرو۔بلکہ دو تین دوم ہے کہ نرمندی ابواب الاشربة باب ما جاء في التنفس في الاناء) پانی پیتے وقت برتن کے اندر سانس نہیں لینا چاہیے بلکہ برتن کو ایک طرف کر کے اس کے با ہر سانس لینا چاہیئے حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن ہیں