آداب حیات — Page 220
۲۲۰ علاوہ طبیب اور مکروہ چیزوں کے متعلق بھی احکامات صادر کئے۔اللہ تعالٰی مومنوں کے لئے مکروہ چیزوں کے استعمال کرنے کو ناپسند فرماتا ہے۔کیونکہ حرام اشیاء ہی گرتے گرتے مکروہ تک پہنچ جاتی ہیں۔شریعت اسلامیہ میں حرام اور ممنوع چیزوں کے کھانے سے منع کیا گیا ہے۔قرآن مجید میں سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 1 میں ان چار چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔انَّمَا حَرَّ مَ عَلَيْكُمُ المَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ يُروما اهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاعٍ وَلَا عَادٍ فَلَا عَليه ا ت اِنَّ اللهَ غَفُور رحيم (سورة البقره : ۱۷۴) ترجمہ واکس نے تم پر صرف مردار، خون اور سور کے گوشت کو اور ان چیزوں کو جنہیں اللہ کے سوا کسی اور سے نامزد کر دیا ہو حرام قرار دیا ہے مگر جو شخص ان چیزوں سے قراردیا کے استعمال پر مجبور ہو جائے اور وہ نہ تو قانون کا مقابلہ کر نے والا ہو۔اور نہ حدود سے آگے نکلنے والا ہو۔اس پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ یقیناً بہت بخشنے والا اور باز بار رحم کرنے والا ہے۔ان چار حرام چیزوں کے علاوہ باقی اشیاء ممنوعہ کہلاتی ہیں گو عام استعمال میں یہ چیزیں بھی حرام میں داخل ہیں۔جیسے کہ حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کھلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے کو کھانا ممنوع قرار دیا ہے ، سلم کتاب الصيد والذبا سے باب تحریم اکل کل ذی ناب من السباع) اسی طرح آپ نے پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے بھی منع فرمایا ہے۔ا مسلم کتاب الصيد والذبائن باب تحريم الحل لحم الحمر لا نسيتة ) پس نہیں چاہیئے کہ ہم قرآن مجید کے ارشادات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ طیب اور