آداب حیات — Page 212
تو تم نماز پڑھو۔تم سلامتی سے بہشت میں داخل ہو جاؤ گے۔) تم مذی ابواب صفة القيامة)۔خواہ واقف ہو یا نا واقف اُسے سلام کرنا چاہیئے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کہنے کو اخوت اسلامی کے قیام کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔سَلّمْ عَلى مَنْ عَرَفتَ وَمَن لَهُ أَعْرِفُ یعنی سب کو سلام کہو خواہ کوئی واقف ہو یا نا واقف ہو۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔کون سی خصلت اسلام کی بہتر ہے۔فرمایا یہ کہ توکھانا کھلائے اور تو پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو نسب کو سلام کرتے۔(بخاری کتاب الاستیذان باب السلام للمعرفة وغير المعرفة) صحابہ کرام کو اس نیکی کی حد درجہ نگہداشت کرتے تھے۔اور اس کے اس قدر پابند تھے کہ وہ بازاروں میں صرف سلام کرنے کے لئے جاتے تھے۔حدیث میں آتا ہے۔ایک وقعہ ایک صحابی دورے صحابی کے پاس آئے اور کہنے لگے آؤ بازار ملیں۔اس صحابی نے سمجھا کہ کوئی کام ہوگا۔لیکن وہ بازار میں سے گھوم کہ یونہی چلے آئے۔نہ کسی دکان پر ٹھہرے نہ کوئی چیز خریدی۔دو تین دن کے بعد پھر آئے اور کہنے لگے۔آؤ بازار چلیں۔اس صحابی نے کہا۔کیا آج کوئی خاص کام ہے۔یا یونہی ساتھ لے جانا چاہتے ہو۔پھر بازار جا کر کیا کرو گے۔نہ کسی سودے پر پھرتے ہو نہ نہ کسی اسباب کا پوچھتے ہو۔نہ سودا چکاتے ہو۔نہ بازار کی مجلس میں بیٹھتے ہو۔انہوں نے کہا۔میں بازار اس لئے جاتا ہوں کہ کئی دوست ملتے ہیں۔ہم تو سلام کے لئے جاتے ہیں۔جو ہمارے سامنے آئے گا۔ہم اُسے سلام کہیں گے ر موطا كتاب الجامع باب جامع السلام