آداب حیات — Page 184
پھر سورۃ بنی اسرائیل میں ارشاد ربانی ہے۔اِنَّ المُبَذِّرِينَ كَانُوا اخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَنُ (سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر ۲۸) لِرَبِّهِ كَفُوراً اسراف کرنے والے لوگ شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بہت ہی ناشکر گزار ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔كُل ما شئت والبسُ مَاشِئتَ مَا أَخْطَاتُكَ وَاثْنَتَانِ سرف او مخيْلَةٌ (بخاری کتاب اللباس پہلی حدیث) یعنی جو چاہے کھا اور جو چاہے پہن جب تک دو باتیں تجھ میں پیدا نہ ہو۔ایک اسراف در کر تکبیر، ابو داؤد اور احمد نے اس کو روایت کیا ہے اور بخاری نے اسکے متعلق بتایا ہے کہ کھا اور پی اور بہن اور خیرات کر بغیر اسراف کے اور بغیر گھمنڈ کے۔- لباس فقط ضرورت پھر بنانا چاہئیے۔فالتو اس سے بھی احتراز کرنا چاہیئے۔کیونکہ یہ بھی اسراف میں شامل ہے۔آنحضرت کے اس ارشاد کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیئے کہ جس نے مقدرت کے باوجود محض تواضع کے خیال سے کوئی فالتو لباس چھوڑا۔اللہ قیامت کے دن اسے سب لوگوں کے سامنے بلا کر اختیار سے گا کہ ایمان کا جو لباس چاہے چین سے رياض الصالحين كتاب اللباس باب استجاب ترك الترفع في للباس تواضعاً) لباس زینت بخش ہونا چاہیے۔قرآنی ارشاد ہے۔مني المحدق ان يُنَتَكُمْ عِندَ كُلِّ مَسْجِدٍ (سورۃ الاعراف : ۳۲) اے آدم کے بیٹو! ہر مسجد کے قریب زینت کے سامان اختیار کر لیا کرو جہاں خدا تعالے کے گھر میں جانے سے پہلے دلوں کی پاکیزگی کا حکم دیا گیا ہے وہاں پاس کی ظاہری صفائی اختیار کرنے کبھی نام ہرایاگیا۔کیونکہ اس کا باطن پرگرا