آداب حیات

by Other Authors

Page 171 of 287

آداب حیات — Page 171

181 روح قبض کرے، تو اس پر رحم کیجیو۔اور اگر چھوڑ دے تو ان کی حفاظت کیجیو۔جس طرح تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔عشاء سے پہلے سوتا نہیں چاہیئے اور عشاء کی نماز کے بعد بے مقصد باتیں نہیں کرنی چاہیے۔لیکن وعظ و نصائح اور علمی مذاکرات کرنا جائزہ ہیں۔حضرت ابو برزہ سے روایت ہے کہ حضور عشاء سے قبل سو جانے کو اور عشاء کے بعد باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔د ترمذی ابواب الصلوۃ باب ما جاء في كراهية النوم قبل والعشاء والسحر بعدها ) حضرت ان سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آدمی رات کے قریب آئے اور عشاء کی نماز پڑھائی۔راوی کہتا ہے پھر ہم کو آپ نے وعظ فرمایا۔کہ لوگ نماز پڑھ کہ سو گئے ہیں۔اور تم جب تک منتظر رہے نماز میں رہے۔استجاری کتاب مواقيت الصلوۃ باب وقت الصلوة الى نصف الليل) اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وعظ و نصیحت کی باتیں کرنا اور علمی مذاکرات اور مباحثات کرنا جائز ہے۔- دائیں پہلو پر لیٹنا چاہئیے اور دایاں ہاتھ رخسار کے نیچے رکھ کر سونا چاہیے اور دعائیں پڑھنی چاہئیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دائیں پہلو پر لیٹتے تھے اور یہ ڈھا بھی پڑھتے تھے۔اللهُمَّ اسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَهتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِى إِلَيْكَ وَالجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ رَعْبَة وَرَهْبَة لا ملجأ ولا منجا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ أَمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى انقلتَ وَ نَتَكَ الَّذِى اَرْسَلْتَ۔استخاری کتاب الدعوات باب النوم على شق الايمين)