آداب حیات — Page 163
دہ اگر سب دور نہیں ہوتیں تو ان میں غیر معمولی کمی پیدا ہو جائے گی اور وہ بد نتائج جو روزانہ شادیوں کی ناکامی کی صورت میں ہمیں دکھائی دیتے ہیں ان پر بھی غیر معمولی ثبت ور میں ہیں دکھائی دیتے ہیں ان پربھی اثر ظاہر ہوگا۔مجلس کی امانت کا حق رکھنا بعض دفعہ غیبت کی بجائے مجلس کی امانت کا حق نہ رکھا تو وہ بھی غیبت بن جاتی۔ہے۔ہم جب آپس میں ملتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کرتے ہیں تو بعض دفعہ ایک شخص نیست کی نیت سے نہیں بلکہ بعض حوالوں کی وجہ سے ایک شخص کا ذکر کر دیتا ہے جسے سب جانتے ہیں۔اس کی کوئی چھپی ہوئی بدی بیان نہیں کی جاتی جس کا ان کو علم نہ ہو۔بلکہ کسی گفتگو کے حوالے سے از خود یہ بات جاری ہو جاتی ہے۔اگر کوئی شخص اس بات کو اٹھائے اور باہر بیان کر دے تو یہ امانت میں خیانت ہے کیونکہ یہ امانتیں ہیں۔اور ان کی بات بغیر اجازت کے بغیر حق کے باس کرنا ایک گناہ ہے۔اور یہ بھی ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔لیکن میں اصول بتا دیا ہوں کہ کہاں امانت ہے کہاں ایک ایسی نصیحت ہے جس کا بنی نوع انسان کی بہتری سے تعلق ہے بھلائی سے تعلق ہے ایسی بات ہے جس کو سن کر ایمان تازہ ہوتا ہے تو یہ وہ امانت نہیں ہے جس کو آپ پوچھے بغیر آگے بیان نہیں کر سکتے۔اس کے متعلق فرمایا کہ جو حاضر شاہد ہے وہ غائب کو یہ باتیں بیان کرے کیونکہ اچھی باتیں ہیں اور ان کے نیچے میں خبر پھیلتی ہے۔مگر اگر اس مجلس میں کسی ایک شخص کا ذکر آیا ہے اور اس کو اگر دور سرش میں بیان کیا جائے تو اس شخص کے خلاف دلوں میں نفرت پھیلے گی۔تو اس کو دوسروں میں بیان کرنا بھی نا جائزہ اس تک بات پہنچانا بھی نا جائز۔اگر کسی مقصد مجبوری سے بات کرنی ہو تو لازم ہے کہ اس سے اجازت لی جائے جس نے ایک مجلس میں یہ بات بیان ہے