آداب حیات — Page 159
۱۵۹ سوا اور کوئی غیبت نہیں ہے۔غیبت بغیر تختی کے بھی پیدا ہوتی ہے۔غیبت ایک شخص کی بدی جو کھل کر سامنے آئی ہے اور تحیت کے نتیجے میں نہیں۔اس کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس میں دور کرنے کی بجائے ان لوگوں کو پہچان کر جو اس کو سن کر اس شخص سے اور دُور ہٹ جائیں گے۔اور اس کی اس شخص سے دشمنی میں اس کے طرفدار ہو جائیں گے۔یہ نیت بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ حقائق پر مبنی غیبتیں بھی کی جاتی ہیں۔اور ہر نیت کا ٹیڑھا ہونا لازم ہے۔ورنہ گناہ نہیں۔برانی کی نیست غیبت کا لازمی حصہ ہے اس نیت سے خواہ برائی کی تلاش کی جائے یا برائی اتفاق نظر آجائے اور پھر اس نیت سے ان باتوں کو دوسروں کے سامنے پیش کیا جائے کہ جس کے متعلق بیان کیا جا رہا ہے اس پر بیان کرنے والے کو ایک قسم کی فوقیت مل جائے کہ دیکھو میں بلند ہوں اس بات سے اور نیت یہ ہو کہ دیکھو یہ آدمی کیسا ذلیل اور گھٹیا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا خوف بھی دامن گیر ہو کہ یہ بات اس شخص تک نہ پہنچ جائے۔یہ خوف دامن گیر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ چھپ کر حملہ کرنا چاہتا ہے۔وہ جب موجود نہیں پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا ہے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سکے۔اگر یہ نیت ہو تو یہ بہت بڑا گناہ ہے۔اور اس کی مثال دیتے ہوئے قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔احِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا (الحجرات : ۱۳) کیا تم میں سے کوئی شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔تم تو کراہت کرنے لگے ہو۔دیکھو دیکھو تم یہ بات سنتے ہی سخت کر اہت محسوس کرتے ہو۔اب کیسی کر بہت جبکہ عملاً اپنی زندگی میں تم نے یہی وطیرہ اختیار کر