آداب حیات

by Other Authors

Page 158 of 287

آداب حیات — Page 158

۱۵۸ میں، اس کی عدم موجودگی میں انس پر تبصرے نہ کیا کرے۔تجس کا مطلب ہے اُسے شوق ہے کچھ معلوم کرنے کا تجسس کا مطلب ہے کہ اسے شوق ہے کچھ معلوم کرنے کا اس لئے بے وجہ طن نہیں کر رہا۔یونہی الفافا ظن نہیں کر رہا۔بلکہ اس کا ظن کسی خاص مقصد کی تلاش میں ہے۔اور ایسے موقع پر وہ نتیجہ نکان جو غلط ہے اور محض اپنے تبت کے شوق میں اس نے نکالا ہے یہ ایک طبعی بات ہے۔ایسا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے۔تیسری صورت میں اگر نجت کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے۔بنیادی طور پر اس کو اپنے بھائی یا بہن سے کوئی دی ہوئی محفی نفرت ہوتی ہے۔وہ پسند نہیں ہوتا اور غیبت اسی کی کی جاتی ہے جو پسند نہ ہو۔کبھی آپ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ماں باپ بیٹھے کہ بچوں کی غیبت کر رہے ہیں یا بچے بیٹھ کر ماں باپ کی غیبت کر رہے ہیں۔اگر ایسا ہو تو بنیادی طور پر ان کے تعلقات کے نظام میں کوئی ایسا رخنہ ہے جسے پاگل پن کہا جا سکتا ہے۔مگر غیبت اور کسی شخص سے پر خاش رکھنا کوئی اس کے متعلق حسد کا پیدا ہونا، اس قسم کے محرکات ہیں جو جتی کی پہلے عادت ڈالتے ہیں اور پھر تبتی جب ان کے سامنے کوئی تصورات پیش کرتا ہے۔حقائق نہیں بلکہ وہ طن جو ان کی عادت میں داخل ہے تختی کے نتیجے میں یہ اندازے لگاتا ہے کہ ہم یہاں تک تو پہنچ گئے ہیں۔اندر کمرے میں جا کر تو نہیں دیکھا۔مگر صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ ہوا ہو گا۔اور چونکہ بدنیتی سے ہی اس سفر کا آغاز ہے اس لئے ہو بھی ماحصل ہے وہ یقینی ہو یا غیر یقینی ہو۔وہ اسے آگے مجالس میں بیان کر کے اس کے چسکے لیتے ہیں۔یہ ایک پورا نفسیاتی سفر ہے جو غیبت کرنے والا اختیار کرتا ہے جس کو قرآن کریم نے سلسلہ یہ سلسلہ اسی طرح بیان فرمایا ہے جس طرح انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے۔لیکن غیبت کی صرف یہ وجہ نہیں ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ اس کے