آداب حیات — Page 157
۱۵۷ غیبت اور چغلی کے متعلق حضرت خلیفة المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزبية کے خطبات سے اقتباسات۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ياَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيْرًا مِّنَ (الحجرات : ۱۳) اے ایمان والو اندازے لگانے سے اجتناب کیا کرو۔الظَّنْ اور بہت زیادہ عادت جو سے تخمینوں کی کہ یہ ہوا ہوگا ، اور یہ ہوا ہوگایہ ایک ایسی مہلک عادت ہے کہ ان اندازوں میں سے یقینا بعض گناہ ہوتے ہیں۔پس تم ایک ایسے میدان میں پھرتے ہو جس میں خطر ناک گڑھے ہیں یا جنگل کے درندے ہیں تم سمجھتے ہو کہ تم دیکھ بھال کر قدم اٹھا رہے ہو مگر جو ایسے خطرے مول لیتا ہے یقینا اس کا پاؤں کہیں نہ کہیں رپٹ جاتا ہے۔غلطی سے کسی گڑھے میں پڑ جاتا ہے یا کسی درندے کے چھپنے کی جگہ کے قریب سے گزرتا ہے اور اسے حملے کی دعوت دیتا ہے تو مراد یہی ہے کہ ٹرین گناہ نہیں ہے، یہ درست ہے بعض ظن جو درست ہوں، حقیقت پر مبنی ہوں وہ خدا کے نزدیک گناہ نہیں لیکن خطمن کرنے کی عادت خطر ناک ہے اور اس کے نتیجے میں سرگز بعید نہیں کہ تم سے بعض بڑے گناہ سرزد ہوں۔دوسری بات یہ فرمائی کہ تختی بھی نہ کیا کہ وطن کا جو تعلق سے دی جس سے بہت گہرا ہے۔جب انسان کو یہ شوق ہو کہ کسی کی کوئی کمزوری معلوم کرے تو اس وقت جو ظن ہیں وہ زیادہ گناہ کے قریب ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنے بھائی یا بہن میں بدی دھند رہا ہوتا ہے اور جس کی عادت اگر فن کی عادت کے ساتھ مل جائے تو بہت بڑا احتمال پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ شخص گنہگار ہو گا۔پس اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ فرمایا۔اور کوئی تم میں سے کسی دوسرے شخص کی غیبت میں نیت نہ کرے یعنی اس کی غیور بیت