آداب حیات

by Other Authors

Page 147 of 287

آداب حیات — Page 147

۱۴ حضرت عمر کا قول ہے کہ دودھ یا شہد کے ہر گھونٹ سے غصہ کا گھونٹ بہتر ہے۔رکستر العمال كتاب الثالث الباب الاول في الاخلاق الافعال المحمودة کے تحت باب نظم الحفیظ) پس جب بھی کوئی تنازعہ پیش آئے تو اس کا فیصلہ تحمل کے ساتھ کرنا چاہیئے۔ایسے موقعہ پر بے لگام لکھتے چلے جانا اور منہ پھٹ ہونا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔یہ تو منافقوں کا شیوہ ہے۔جو اسلام کے احکامات کی خلاف ورزی کرتا ہے اور اہل اسلام کو نقصان پہنچاتا چاہتا ہے۔۱۶ اگر موقع نہ ہو یا کہنے کو اچھی بات نہ ہو تو پھر خاموش رہنا چاہیئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکثر چپ رہتے اور بے ضرورت کبھی گفتگو نہ فرماتے تھے۔آپ فرماتے تھے جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔وہ پھیکی بات کہے یا خاموش ہو رہے۔اربعین نوی حدیث نمبر ۱ ص ۱۳ از شیخ محمد اقبال ابن شیخ سکندر الدین ہوا -1 آپ فرماتے تھے کہ خاموشی حکمت ہے اور اس پر عمل کرنے والے کم ہیں۔ا بیهقی شعب الایمان حدیث نمبر (۵۰۲) حدیث میں ہے جو خاموش ہوا اس نے نجات پائی د مشکواۃ کتاب الاداب باب حفظ اللسان الغیبته واشتم) الہ تعالی نے دو جسے اللہ تعالیٰ نے دو جبڑوں اور ٹانگوں کے شرسے بچا یا دہ جنت میں داخل درباض الصالحين كتاب الامور المنهى عنها باب تحريم الغيبة والامر حفظ اللسان) سنی سنائی بات کو آگے نہیں پھیلانا چاہیئے۔افواہیں پھیلنے سے معاشرہ