آداب حیات

by Other Authors

Page 142 of 287

آداب حیات — Page 142

۱۴۲ ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا يَسْخَرُ قَومُ من قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِنْ نِسَاء عَلى أن يكن خَيْرًا مِنْهُنَّ : ( سورة الحجرات : ١٢ ) اے مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے اسے حقیر سمجھ کر ہنسی مذاق نہ کیا کرے ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہو۔اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں سے ان کو حقیر سمجھ کر ہنسی ٹھٹھا کیا کریں ممکن ہے کہ وہ عورت نہیں ان سے بہتر ہوں۔دائلہ بن الاسقع روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اپنے مسلمان بھائی کی شکائت نہ کر یعنی مہنسی نہ اُڑا۔ایسا نہ ہو کہ اللہ اس پر رحم کردے اور تجھے اُس دُکھ میں مبتلا کر دے۔ر ترمذی ابواب صفۃ القیامة باب نمبر (۵۲) - گفتگو میں اگر کبھی مزاح کا رنگ بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔لیکن ایسا مزاح نہ کیا جائے جو گھٹیا ہوا در دور کی دل شکنی کا باعث بنے۔حضور صلی اله علیه دستم شگفتہ مزاج تھے اور کبھی کبھی ظرافت کی باتیں بھی۔فرماتے۔ایک دفعہ حضرت انس کو پکارا تو فرمایا۔" اور دوکان والے۔“ ترندی ابواب المناقب باب مناقب انس بن مالک) اس میں یہ تک یہ بھی تھا کہ حضرت انسان نہایت اطاعت شعار تھے اور ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر کان لگائے رکھتے۔حضرت انس کے چھوٹے بھائی کا نام ابو عمر تھا وہ کم سن تھے۔اور ایک مولا پال رکھا تھا۔اتفاق سے وہ مر گیا۔ابو عمیر کو بہت دُکھ ہوا۔آپ نے ان کو غمزدہ دیکھا تو فرمایا - يَا أَبَا عُمَيْرُ مَا فَعَلَ المُخَيرُ اے ابو عمیر تمہارے نمونے نے یہ کیا گیا۔ابتخاری کتاب الادب باب الانبساط الى الناس)